1 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)حالیہ برسوں میں چین کی انجینئرنگ مشینری انڈسٹری کی عالمگیریت کی رفتار میں تیزی آئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چین، انجینئرنگ مشینری کی پیداوار اور فروخت حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ 2020 سے 2025 تک اس صنعت کی برآمدات میں تین گنا اضافہ ہوا۔ اس سال کے پہلے نصف میں چین کی انجینئرنگ مشینری کی برآمدات 34.373 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21.7 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے ملکی ساختہ چھوٹی مشینیں غیر ملکی منڈیوں میں خاصی مقبول ہیں۔
الیکٹرو ٹرائی سائیکل، چھوٹے ٹریکٹر، منی ایکسکیویٹرز جیسی "چھوٹی"مشینز، غیر ملکی صارفین کی حقیقی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ تکنیکی جدت، سپلائی چین کی ہم آہنگی اور مارکیٹ سروسز کا مشترکہ فروغ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح، چینی ساختہ مصنوعات مخصوص شعبوں میں رفتار، قیمت اور معیار کے لحاظ سے مسابقت کر رہی ہیں۔

صوبہ جیانگسو کے شہر شوجو کی کاونٹی فنگ شیان کی ورکشاپ میں الیکٹرک ٹرائی سائیکلز کو جوڑا جا رہا ہے۔ (تصویر شوجو کے دفتر اطلاعات کےآفیشل وی چیٹ اکاونٹ سے لی گئی ہے)
الیکٹرو ٹرائی سائیکل کمپنیز کی "مل کر سمندر پار چلتے ہیں" سے صارفین کی ضروریات کو ترجیح دینے تک، برآمدات میں تیزی
زمبابوے کے ایک دیہی علاقے میں 31 سالہ آناپوپوہو نے چینی ساختہ مال بردار الیکٹرو ٹرائی سائیکل چلانی شروع کی۔ وہاں کی سڑکیں خراب ہیں اور بڑے ٹرک گاؤں میں داخل نہیں ہو سکتے۔ آنا،اس الیکٹرو ٹرائی سائیکل کے ذریعے کسانوں سے زرعی مصنوعات خریدتی ہیں اور انہیں منڈی میں لے جا کر فروخت کرتی ہیں، انہوں نے گاؤں کی دیگر خواتین کو بھی اس ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔
اس کہانی نے زون سین انڈسٹریل گروپ کے گلوبل بزنس ڈویلپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر جاؤ شوائی کو بے حد متاثر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سی غیر ملکی منڈیوں میں الیکٹرو ٹرائی سائیکل نہ صرف نقل و حمل کا بلکہ پیداوار کا بھی ایک ذریعہ ہیں۔ کمپنی کی تحقیق کے مطابق، افریقی دیہات، جنوب مشرقی ایشیا کے باغات اور لاطینی امریکا کے فارمز کی صورتِ حال ایک جیسی ہےیں،یعنی تنگ سڑکیں، زیادہ لاگت، مختصر فاصلے کے لیے نقل و حمل دستیاب نہیں ہے اور پک اپ یا ٹرک وہاں جا نہیں سکتے یا پھر وہ بہت مہنگے پڑتے ہیں جب کہ، دو پہیوں والی گاڑیاں زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں جب کہ ٹرائی سائیکل بہت سے منظر ناموں میں کام آتی ہے۔
افریقا میں زیادہ درجہ حرارت، دھول مٹی اور خراب سڑکوں کے لیے ٹرائی سائیکلز کو مضبوط چیسس اور آسان مرمتی ڈھانچے سے لیس کیا گیا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے باغات میں درختوں کے درمیان کم فاصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے کمپنی نے چھوٹی جسامت اور لفٹنگ فنکشن والی ٹرائی سائیکلیز تیار کی ہیں۔ لاطینی امریکاکی منڈیوں میں صارفین لوڈنگ کی گنجائش اور بیٹری کی صلاحیت کو اہمیت دیتے ہیں، اس لیے کمپنی زرعی مصنوعات کی منتقلی اور چھوٹے دکانداروں کے کام کے مطابق ڈبوں، انجن اور بیٹری کو ترتیب دیتی ہے۔
جاؤ شوائی کہتے ہیں کہ پہلے ہم صرف ٹرائی سائیکلز بیچتے تھے لیکن اب ہم پہلے یہ پوچھتے ہیں کہ گاہک اسے کہاں استعمال کرے گا، کیسے استعمال کرے گا اور کس کا م کو کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ صارفین کی ضروریات کو ترجیح دینے نے برآمدات کو فروغ دیا ہے۔ 2025 میں زون سین انڈسٹریل گروپ نے 3 لاکھ سے زائد ٹرائی سائیکلز برآمد کیں، جب کہ اس سال کے پہلے نصف میں برآمدات 2 لاکھ کے قریب ہیں۔
جیانگ سو کے شہر شوجو میں 49 نمایاں الیکٹرو ٹرائی سائیکل مینوفیکچررز ہیں، 2025 میں ان کی پیداوار 62.5 لاکھ یونٹ تھی جو کہ اس سال کے پہلے نصف میں 40.5 لاکھ یونٹس تک پہنچ چکی ہے۔ شوچو کےمیونسپل انڈسٹری اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی بیورو کے شعبہِ صنعتی آلات کے سربراہ سن چھی کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں شوجو نے "سو کمپنیز مل کر سمندر پار چلیں" جیسی سرگرمیاں کیں اور"الیکٹرک موٹر سائیکل انڈسٹری کے اعلی ترقیاتی معیار کا ایکشن پلان (2026-2028)" جاری کیا، جس میں سرکردہ کمپنیز کو تحقیق اور برینڈنگ میں مدد دی گئی اور چھوٹی کمپنیز کو پرزہ جات کی فراہمی اور پیشہ ورانہ تعاون کی طرف راغب کیا گیا، تاکہ وہ صنعتی سلسلے اور سپلائی چین میں شامل ہو کر اس صنعت کی ترقی کو فروغ دے سکیں۔
جیانگ سو کے شہر شوجو میں 49 نمایاں الیکٹرو ٹرائی سائیکل مینوفیکچررز ہیں، 2025 میں ان کی پیداوار 62.5 لاکھ یونٹ تھی جو کہ اس سال کے پہلے نصف میں 40.5 لاکھ یونٹس تک پہنچ چکی ہے۔ شوچو کےمیونسپل انڈسٹری اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی بیورو کے شعبہِ صنعتی آلات کے سربراہ سن چھی کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں شوجو نے "سو کمپنیز مل کر سمندر پار چلیں" جیسی سرگرمیاں کیں اور"الیکٹرک موٹر سائیکل انڈسٹری کے اعلی ترقیاتی معیار کا ایکشن پلان (2026-2028)" جاری کیا، جس میں سرکردہ کمپنیز کو تحقیق اور برینڈنگ میں مدد دی گئی اور چھوٹی کمپنیز کو پرزہ جات کی فراہمی اور پیشہ ورانہ تعاون کی طرف راغب کیا گیا، تاکہ وہ صنعتی سلسلے اور سپلائی چین میں شامل ہو کر اس صنعت کی ترقی کو فروغ دے سکیں۔

(تصویر بشکریہ سی فانگ گروپ)
چھوٹے ٹریکٹر "ایک مشین، کئی استعمال" کی منطق پر چلتے ہیں اور مکمل صنعتی سلسلہ ، مصنوعات کی تحقیق میں مددگار ہے
صوبہ جہ جیانگ کے شہر یونگ کھانگ میں واقع جہ جیانگ سی فانگ گروپ کے گودام کے سامنے، قطار میں کھڑے چھوٹے ٹریکٹرز، جلد ہی بیرون ملک بھیجے جائیں گے۔ قریب ہی لائیو سٹریمنگ کے ذریعے افریقا اور جنوب مشرقی ایشیا کے تاجروں کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔
اس لائیو سٹریم میں"ایک مشین، کئی استعمال" کے تحت متعارف کروائے گئے ایک واکنگ ٹریکٹر کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اگرچہ یہ چھوٹا ہے، لیکن کام کرنے کی صلاحیت بھرپور ہے۔ اس کے پچھلے حصے میں کھیتی، بوائی اور کٹائی وغیرہ کے لیے درجنوں اوزار لگائے جا سکتے ہیں، خاص طور پر چھوٹے کھیتوں کے لیے یہ بے حد موزوں ہے۔ اب اس ٹریکٹر کی برآمدات ملک کی اس مخصوص قسم کے کل برآمدات کے 60 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہیں۔
سی فانگ گروپ 12 سے 40 ہارس پاور کے چھوٹے ٹریکٹر تیار کرتا ہے، جن کی سالانہ پیداوار تقریباً 25,000 یونٹ ہے۔ یہ ٹریکٹر افریقا،جنوبی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا وغیرہ میں فروخت ہوتے ہیں۔ 2025 میں اس گروپ کی زرعی مشینری کی برآمدات 540 ملین یوآن رہیں جب کہ واکنگ ٹریکٹر کی برآمدات ملک میں سرفہرست ہیں۔
سی فانگ گروپ کے چیئرمین یو فینگ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی منڈیوں میں ان مصنوعات کی کامیابی کے لیے انہیں 'مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنا' ضروری ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کی زمین نرم ہے، اس لیے ٹریکٹر کی پٹڑیوں کو چوڑا کیا گیا؛ سورینام میں کام کا دباو زیادہ ہے، اس لیے واٹر کولنگ سسٹم کو اپ گریڈ کیا گیا اور ان مقامی مسائل کےحل ہونے کے بعد، مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوگیا۔
یونگ کھانگ میں زرعی مشینری اور پرزہ جات بنانے والی 1600 سے زائد کمپنیز ہیں، جن میں 157 بڑے صنعتی ادارے شامل ہیں۔ یہ ملک کی معروف ہارڈویئر انڈسٹری بیس ہے، جہاں تقریباً 90 فیصد پرزے مقامی طور پر دستیاب ہیں، جس سے بیرونی خریداروں کی "چھوٹی کھیپ، بڑی کھیپ اور حسب ضرورت درکار " آرڈرز کو تیزی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ یونگ کھانگ نے جہ جیانگ کے پہاڑی علاقوں کے لیے زرعی مشینری کے پائلٹ پلیٹ فارم بھی قائم کیے ہیں، جو کمپنیز کو ڈیزائن کے تصورات سے لے کر چھوٹے پیمانے کی پیداوار تک مکمل خدمات فراہم کرتے ہیں۔

گلوبل کنسٹرکشن مشینری کراس بارڈر ای کامرس ڈسٹری بیوشن سنٹر میں تعمیراتی مشینری اور آلات کی مختلف اقسام۔ (تصویر ۔ اکنامک ڈیلی)
منی ایکسکیویٹرز 'اسے چھوٹا اور درست بنانا' کے چیلنج پر قابو پاتا ہے، ون اسٹاپ بیرونی مارکیٹ پلیٹ فارم عالمی مارکیٹس سے جوڑتا ہے
صوبہ شان دونگ کے جی نینگ ہائی ٹیک زون میں واقع گلوبل کنسٹرکشن مشینری کراس بارڈر ای کامرس ڈسٹری بیوشن سنٹر میں، غیر ملکی تاجر نئے منی ایکسکیویٹرز کی کارکردگی اور قیمتوں کا موازنہ کر رہے ہیں۔
شان دونگ ریپپا مشینری گروپ کے ڈپٹی جنرل منیجر گاو شینگ تاو نے بتایا کہ اس سال کے پہلے نصف میں کمپنی کے منی ایکسکیویٹرز کی کل فروخت 25,800 یونٹ تھی، جن میں 80 فیصد سے زائد غیر ملکی آرڈرز تھے۔کمپنی نے یورپ وغیرہ میں 4 گودام قائم کیے ہیں، جس سے گاہکوں کو کم سے کم 3 دن اور زیادہ سے زیادہ 7 دن میں ان کا آرڈر موصول ہو جاتا ہے۔
اس وقت تک، جی نینگ ہائی ٹیک زون میں چھوٹی انجینئرنگ مشینری کی 70 سے زائد کمپنیز ہیں۔ اس سال کے پہلے نصف میں جی نینگ ہائی ٹیک زون کی سمال انجینئرنگ مشینری کی برآمدات 2.77 ارب یوآن رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہیں۔
گاو شینگ تاو کہتے ہیں کہ یورپی اور امریکی صارفین عام طور پر باغبانی اور چھوٹے فارمز پر کام کرنے کے لیے منی ایکسکیویٹرز خریدتے ہیں، ان کی بنیادی ضرورت چھوٹا سائز اور آسان آپریشن ہے۔ کمپنی، غیر ملکی منڈیوں کی مخصوص ضروریات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے 'درست اور چھوٹا' بنانے کے لیے کوشاں ہے، کم وزن کی ٹیکنالوجی پر تحقیق کرتی ہے اور مصنوعات کی اقسام میں اضافہ کرتی ہے۔ کمپنی اب 10 سے زائد سیریز اور 1000 سے زائد اقسام کے منی ایکسکیویٹرز تیار کر رہی ہے۔
2025 کے آخر میں جی نینگ ہائی ٹیک زون نے 35 ملین یوآن کی سرمایہ کاری سے، گلوبل کنسٹرکشن مشینری کراس بارڈر ای کامرس ڈسٹری بیوشن سنٹر قائم کیا، جس نے ارد گرد کی 120 سے زائد انجینئرنگ مشینری سپلائی چین کمپنیز کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ جی نینگ ہائی ٹیک زون کی مینجمنٹ کمیٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جانگ روئی کا کہنا ہے کہ ہم ون اسٹاپ مارکیٹ پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں حقیقی مصنوعات کی نمائش، آن لائن کلاؤڈ پروموشن اور عالمی سطح پر گاہکوں تک رسائی کا مکمل سلسلہ شامل ہے، تاکہ تاجر 'ایک ہی جگہ پر مصنوعات کا انتخاب کریں اور ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے عالمی منڈیوں سے منسلک ہوں'۔ اس سے جی نینگ انجینئرنگ مشینری انڈسٹری برینڈ کی شناخت اور مسابقتی صلاحیت میں بھرپور اضافہ ہو گا۔



