• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چین کی بڑی پیش رفت، زمین اور چاند کے درمیان پہلی مرتبہ دو طرفہ ہائی سپیڈ لیزر مواصلاتی رابطہ قائم

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-09-10

    10 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ سینٹر کی فراہم کردہ تصویر میں زمین اور چاند کے درمیان دو طرفہ لیزر مواصلات کا ایک خاکہ دکھایا گیا ہے۔

    چین نے ایک سال کے تجربات کے بعد زمین اور چاند کے درمیان لیزر مواصلات کے تجربے میں بڑی پیش رفت کی ہے۔ محققین نے پہلی بار 400,000 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود آسمانی اجسام کے درمیان دو طرفہ ہائی سپیڈ لیزر کنکشن قائم کیا۔ ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ سینٹر فار سپیس یوٹی لائزیشن کے اس تجربے میں جہ جیانگ لیب، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی یوننان آبزرویٹریز اور شنگھائی انسٹی ٹیوٹ آف مائیکرو سسٹمز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں۔

    چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ سینٹر فار سپیس یوٹی لائزیشن کے محقق اور تجرباتی ٹیم کے لیڈر یانگ لے کہتے ہیں کہ خلائی مواصلات سینکڑوں ہزاروں کلومیٹر کا احاطہ کر سکتی ہے اور اس کے لیے بیم کو درست مقام پر رکھنا بہت ضروری ہے۔ اتنے فاصلے پر لیزر سگنل کافی کمزور ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں کھوجنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہائی سپیڈ مواصلاتی ٹیکنالوجی بھی کچھ حدود کی پابند ہوتی ہے، جس سے زیادہ اعلی شرحِ رفتار حاصل کرنا پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یانگ لے نے کہا کہ ان چیلنجز کو حل کرتے ہوئے، زمین اور چاند کے درمیان 'انفارمیشن سپر ہائی وے' اب فعال ہے۔ اس تجربے کے ذریعے تیار کردہ ہلکے، تہہ در تہہ، کم طاقت، اور تیز ترین انفارمیشن ٹرانسمیشن کی صلاحیتیں چین کے چاند کے لیے بھیجے جانے والے انسانی مشنز، چاند کے تحقیقی اسٹیشن کے قیام اور خلائے بسیط کی دریافت کے لیے ڈیٹا کی تیز رفتار منتقلی کا ایک نیا طریقہ فراہم کریں گی، جس سے چین کی سپیس سائنس اور ایپلی کیشنز میں مزید بڑی سائنسی کامیابیاں حاصل ہوں گی۔

    ویڈیوز

    زبان