10 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)رواں سال، چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا سال ہے۔ دونوں ممالک نے ثقافتی تبادلوں کے ذریعے تہذیبوں کے باہمی تعامل کو گہرا کرنے اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد سرگرمیاں منعقد کیں، جس سے وقت کی کسوٹی پر کھری اترنے والی پاک-چین سدا بہار دوستی کے رنگ مزید نکھر گئے۔ ایک ایسی ہی بھرپور تقریب 6 ستمبر کو بیجنگ میں دیوارِ چین کے بادالنگ سیکشن پر منعقد ہوئی۔
بیجنگ گریٹ وال کنسرٹ2026 میں، دونوں ممالک کے رقص و موسیقی کے شعبے سے وابستہ مایہ ناز فنکاروں نے ایک ساتھ پرفارم کیا تو دوستی، تہذیب و ثقافت اور جوش و خروش کا ایک یادگار ماحول بن گیا۔

چین میں پاکستان کے سفیر محترم خلیل ہاشمی، پیپلز ڈیلی آن لائن کو انٹرویو دے رہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-فراز)
خلیل ہاشمی نے پیپلز ڈیلی آن لائن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دیوارِ چین ایک عالمی شہرت یافتہ ثقافتی علامت ہے، اس تقریب کا اس مقام پر انعقاد کرنا وقت اور مقام دونوں لحاظ سے ایک بہترین انتخاب ہے۔ یاد رہے کہ دیوارِ چین کے بادالنگ سیکشن کے چھٹے سے ساتویں پلیٹ فارم تک کا حصہ 1989 میں پاکستانی حکومت کی مدد سے مرمت کیا گیا تھا۔ کئی دہائیوں سے خاموش کھڑا یہ مخصوص سیکشن، دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ یہ دونوں ممالک کی تہذیبوں کے ملاپ اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی عملی علامت بن چکا ہے۔
خلیل ہاشمی کے مطابق، فن کا تبادلہ تہذیبی رکاوٹوں کو ہٹانے اور دو طرفہ دوستی کو گہرا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس کنسرٹ میں، چین اور پاکستان کے موسیقار اور فنکار ایک جگہ جمع ہوئے، موسیقی اور رقص کے ذریعے انہوں نے اپنی گہری ثقافتی روایات کو ایک نئی زندگی اور آہنگ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ، فن دونوں ممالک کے عوام کی روایتی دوستی کو گہرا کرنے کا ایک اہم پل ہے اور ثقافتی تبادلے کی یہ سرگرمیاں دو طرفہ تعلقات کی ترقی اور دوستی کو گہرا کرنے میں یقیناً انمٹ اور مثبت کردار ادا کریں گی۔
اس شو میں دونوں ممالک کی ثقافتی خصوصیات کو یکجا کیا گیا تھا، جس میں پاکستانی کلاسیکی کتھک رقص، روایتی قوالی جب کہ چین کی جانب سے چینی دون حوانگ رقص اور کلاسیکی اندازِ گائیکی کو پیش کیا گیا۔ دونوں ممالک کے فنکاروں نے بین الثقافتی اور تخلیقی انداز میں پاکستان اور چین کی تہذیبوں کے باہمی امتزاج اور اشتراک کی خوبصورت تصویر کشی کی۔
پاکستان اور چین کی نوجوان نسل، نسلوں پر محیط اس دوستی کی بنیادی قوت ہے اور فن اور فنکاروں کا تبادلہ دونوں قوموں کے دلوں کو جوڑنے اور دوستی کو برقرار رکھنے کے لیے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے پہلی مرتبہ قوالی کی صنف کو چین میں پیش کرنے والے قوال برادران، زین زوہیب نے پیپلز ڈیلی آن لائن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاک-چین سفارتی تعلقات کے 75 ویں سالگرہ منانے کے لیے یہاں آئے ہیں اور ہمیں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر بہت فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ موسیقی کی زبان کے ذریعے اس گہری دوستی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل کو ایک دوسرے کے قریب لانا چاہتے ہیں تاکہ یہ قیمتی دوستی نسل در نسل منتقل ہوتی رہے۔
اپنی پرفارمنس میں بینڈ نے روایتی اور جدید سازوں کے ساتھ ساتھ چینی سازندوں کی مدد سے پاکستانی سازوں کے امتزاج کو کمال مہارت سے پیش کیا اور دونوں ممالک کی باہمی قربت اور دوستی کی گہرائی کو ایک نیا آہنگ دے دیا۔
پاک-چین ثقافتی تبادلے ہمیشہ سے عوام کے دلوں کے قریب رہے ہیں۔ روایتی تہواروں سے لے کر اعلیٰ فنون کی شاندار محافل تک، دونوں ممالک ثقافت کو پل اور فن کو ذریعہ بنا کر دو طرفہ دوستی کی عوامی بنیادوں کو مضبوط کرتے آئے اور ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت دارانہ تعلقات کے مفہوم کو وسیع کرتے رہے ہیں۔ جیسے جیسے ثقافتی تبادلے مزید گہرے ہوں گے، پاک-چین تہذیبی باہمی تعامل مزید بڑھے گا اور نسل در نسل منتقل ہوتی دوستی زیادہ پائیدار ہو گی۔

چین کی نامور رقاصہ جانگ جینگ دی کی پرفارمنس 'دون حوانگ میورلز'۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-فراز)

پاکستانی قوال برادران ،زین زوہیب اور چینی سازنوں کی " فیوژن پرفارمنس"۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-فراز)

پاکستانی رقاصہ، نگہت چودھری اور ہم جولیوں کی پرفارمنس 'پاک-چین دوستی'۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-فراز)

چینی سوپ اوپرا گلوکارہ چھانگ سی سی کا گیت 'میرا وطن'۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-فراز)

چینی گلوکارہ شو زہ یاو گیت 'اوڈ ٹو کورل'پیش کر رہی ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-فراز)



