
11 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) پاکستان کے انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک سٹڈیزکے ڈائریکٹر اور پاکستان-شنگھائی تعاون تنظیم دوستی فورم کے سیکریٹری جنرل محمد آصف نور نے پیپلز ڈیلی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے بشکیک سربراہی اجلاس میں صدر شی جن پھنگ کی پیش کردہ اہم تجاویز کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی تجاویز نے "شنگھائی سپرٹ" کو مزید فروغ دیا، شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی کی رہنمائی کی اور بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کے لیے چینی دانش پیش کی۔ ان کے مطابق صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ "چارمضبوط عہد" شنگھائی تعاون تنظیم کو مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے قابلِ عمل منصوبہ فراہم کرتے ہیں۔ 2026 سے 2027 تک شنگھائی تعاون تنظیم کے "روٹیٹنگ چیرمین" کی حیثیت سے پاکستان کو یقین ہے کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے وژن کی رہنمائی میں تنظیم کے فریم ورک کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھائے گا۔
آصف نور کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پھنگ نے تین "بہترین" کے ذریعے شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی کے تجربات اور خصوصیات کو جامع انداز میں بیان کیا اور وہ اس سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، "شنگھائی سپرٹ" نے، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان کئی برسوں پر محیط تعاون کے عملی تجربات سے جنم لیا ہے اور یہ خطے کے مختلف ممالک کی ہمسائیگی، دوستی، امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کی مشترکہ خواہشات کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جب دنیا کے کئی حصوں میں "زیرو سم گیم"، تنازعات اور محاذ آرائی کا غلبہ ہے، اختلافات سے بالاتر ہو کر مکالمے کی راہ اختیار کرنا ہی درست راستہ ہے۔
آصف نور کی رائے میں، "چار مضبوط عہد" خطے میں طویل مدتی امن و استحکام کے حصول کے حوالے سے چین کی گہری سمجھ بوجھ کی عکاسی کرتے ہیں۔صدر شی جن پھنگ کی جانب سے چائنا-ایس سی او بندرگاہی اقتصادی تعاون مرکز اور چائنا-ایس سی او بنیادی تعلیمی تعاون مرکز کے قیام کا اعلان، اس کے علاوہ تین برسوں کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ مشترکہ طور پر سائنسی و تکنیکی تعاون کے 100 منصوبوں پر عمل درآمد سمیت عملی اقدامات، علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے چین کے عملی جذبے کی عکاسی کرتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایسی تنظیم ہے جو عملی اقدامات پر مبنی ہے۔ چین کے اقدامات اس بات کا مظہر ہیں کہ وہ ایک بڑی طاقت کے طور پر سیاسی اتفاقِ رائے کو ٹھوس تعاون میں تبدیل کرنے اور اجتماعی طاقت کو رکن ممالک کے عوام کے لیے حقیقی فوائد میں ڈھالنے کی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے بشکیک سربراہی اجلاس میں تمام فریقوں کے اتفاقِ رائے پر مشتمل، "ایس سی او، بشکیک سربراہی اجلاس کا اعلامیہ"جاری کیا گیا۔ اجلاس نے تھیان جن سربراہی اجلاس کے نتائج کی بنیاد پر "شنگھائی تعاون تنظیم کے منشور" میں ترمیم، سلامتی، اقتصادی و افرادی تعاون اور تنظیمی تعمیر سمیت تعاون کی 30 دستاویزات منظور کیں۔ آصف نور کاکہنا ہے کہ کثیر قطبیت، گلوبل ساوتھ ممالک کا مشترکہ اتفاقِ رائے بن چکی ہے۔ صدر شی جن پھنگ کی تقریر مساوی خودمختاری، بین الاقوامی قانون، کثیرجہتی مکالمے اور بین الاقوامی میدان میں ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چین کی حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم، دنیا میں کثیر قطبیت کی وکالت کرتی ہے اور ایک زیادہ منصفانہ اور معقول بین الاقوامی نظام کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ تنظیم مزید علاقائی ذمہ داریاں سنبھالے گی اور عالمی حکمرانی میں مثبت کردار ادا کرے گی۔
آصف نور کے خیال میں، 2026 سے 2027 تک شنگھائی تعاون تنظیم کی روٹیٹنگ چیرمین شپ سنبھالنے کے بعد پاکستان، عملی انداز میں منصوبوں پر عمل درآمد اور نتائج کو بروئے کار لائے گا تاکہ عوام کا شنگھائی تعاون تنظیم پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کے تھیان جن سربراہی اجلاس میں پیش کیا گیا "گلوبل گورننس انیشی ایٹو" شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے، جس کے عملی نتائج مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ چار عالمی اقدامات اور "شنگھائی سپرٹ" ایک دوسرے سے بے حد ہم آہنگ ہیں اور یہ شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقبل کی ترقی کے لیے بیش قدر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
2001میں قائم ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم اب دنیا کی وسیع ترین رقبے کا احاطہ کرنے والی، سب سے زیادہ آبادی رکھنے والی اور بے پناہ صلاحیتوں کی حامل نئی علاقائی تعاون تنظیم بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی اعتبار سے علاقائی تعاون کی تنظیم کے لیے 25 سال کا عرصہ زیادہ طویل نہیں ہوتا، تاہم شنگھائی تعاون تنظیم نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور "شنگھائی سپرٹ" پر مبنی تعاون کے تصور کو بھی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ علاقائی اور عالمی استحکام کے تحفظ، گلوبل ساوتھ ممالک کی مشترکہ ترقی کو فروغ دینے اور دنیا میں کثیر قطبیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے حوالے سے متحرک شنگھائی تعاون تنظیم، انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔



