
چین کے صوبے شان شی کے شہر داتھونگ، کی ایک ورکشاپ میں کاریگر میں تانبے کے مخصوص ظروف پر نقاشی کا کام کرر ہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-وانگ فان)
14 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)تانبے اور پیتل سے ظروف سازی کا فن 2,000 سال سے بھی زیادہ قدیم عرصے سے نسل در نسل چلا آ رہا ہے اور آج بھی اپنی منفرد دلکشی، روایتی دستکاری اور جدید ڈیزائن کے حسین امتزاج سے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کردہ ان ظروف پر انتہائی نفاست اور باریکی کے ساتھ کی جانے والی کندہ کاری اس کی خاص پہچان ہے اور اسی وجہ سے یہ چین کے قومی سطح کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔
کاریگر، سرخ تانبے اور پیتل جیسے معیاری مواد کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان مصنوعات کو 10 سے زائد مراحل سے گزارا جاتا ہے، جن میں مواد کا انتخاب اور تناسب، تانبے کو پگھلانا، دھات کو ڈھالنا، ویلڈنگ اور اسمبلی، کندہ کاری، زنگ سے بچاؤ کے لیے ٹن کوٹنگ،رگڑائی اور چمکانے تک کے مراحل شامل ہیں۔

چین کے صوبے شان شی کے شہر داتھونگ کے پیتل اور تانبے سے ظروف سازی کے فن کے نمائندہ وارث، 85 سالہ لی آن مِن (دائیں جانب)اپنے بیٹے لی شو دونگ کے ساتھ نئے انداز کے ظروف بنانے کا کام کرتے ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-وانگ فان)
اس فن کے نمائندہ وارث، لی آن مِن کے مطابق ایک عام سے برتن کو مکمل کرنے میں کئی دن کی محنت درکار ہوتی ہے، جب کہ زیادہ پیچیدہ فن پاروں کو مکمل کرنے میں تو مہینوں لگ جاتے ہیں جس کے دوران ہر مرحلہ مہارت اور صبر کا متقاضی ہے۔
لی نے اس فن کو سیکھنے، محفوظ رکھنے اور آگے منتقل کرنے میں چھ دہائیاں صرف کی ہیں، اس دوران انہوں نے روایتی فن کو جدید ذوق کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے، روایتی مصنوعات کو دوبارہ ڈیزائن کر کے اس فن کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ ان کی کوششوں نے داتھونگ کی اس ثقافت کو محفوظ رکھنے میں مدد دی ہے اور اسے آج کے صارفین کے لیے زیادہ قابل رسائی بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدت، داتھونگ کے ان ظروف کو زیادہ مقبول بناتی ہے۔
آج، داتھونگ کے کاریگروں نے روایتی فن کی بنیاد پر 200 سے زائد اقسام کی مصنوعات تیار کی ہیں۔ ان میں، شان شی میں خاندانی اجتماعات اور مشترکہ کھانے کی روایت کی عکاسی کرتے تانبے کے ہاٹ پاٹ نمایاں ہیں۔

کاریگر، ہتھوڑے اور چھینی کا استعمال کرتے ہوئے تانبے کے برتن کی سطح پر نقاشی کر رہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-وانگ فان)

تانبے کے ایک ہاٹ پاٹ پر، یون گانگ غاروں کی محوِ پرواز اپسرا کا آرائشی نقش۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-وانگ فان)
لی اور اس کے شاگردوں نے جدید ٹیکنالوجیز اور ڈیزائن آئیڈیاز شامل کرتے ہوئے تانبے کے ہاٹ پاٹس میں مہارت کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔انہوں نے انڈکشن سے موافقت رکھنے والے تانبے کے ہاٹ پاٹ تیار کرتے ہوئے، داتھونگ کے ثقافتی ورثے سے متاثرہ آرائشی نمونوں کا استعمال کیا ہے جن میں، یون گانگ غاروں کی پرواز کرتی اپسراؤں اور مقامی روایات پر مشتمل نمونے شامل ہیں۔ اس سے تانبے کے ظروف کو روایتی خصوصیات اور جدید دلکشی حاصل ہوئی ہے۔
جدت کے ساتھ ساتھ، لی نے نئی نسل کی تربیت پر بھی توجہ دی ہے۔ انہوں نے 30 سے زائد شاگردوں کو تعلیم دی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ اپنی مہارت نئی نسل میں منتقل کر کے داتھونگ کے تانبے کی ظروف سازی کے فن کو زندہ رکھیں گے اور نئی مصنوعات کی تخلیق و ترقی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

چین کے صوبے شان شی میں سیاح، تانبے اور پیتل سے ظروف سازی کی تکنیک اور اس سے بنائے گئے ظروف کا مشاہدہ کررہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن-وانگ فان)



