• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    اے آئی ملازمتوں کی نوعیت بدل رہی ہے، چینی جامعات اپنے ڈگری پروگرامز کو تبدیل کر رہی ہیں

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-09-17

    17 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کی متعدد جامعات میں مصنوعی ذہانت، کلاس رومز میں بالکل نئے اور غیر متوقع انداز میں نظر آ رہی ہے۔

    چین کی زرعی یونیورسٹی میں، جانوروں سے متعلق طب، نباتات کے تحفظ، معاشیات اور اکاونٹنگ جیسے مختلف شعبوں میں طلبہ اے آئی کو اپنے اپنے مضامین میں استعمال کرنے کے طریقے سیکھنے کے لیے تعلیمی کورسز میں شرکت کر رہے ہیں۔ "مائیکرو میجرز" کے نام سے یہ مختصر اور اہداف پر مرکوز پروگرامز بیک وقت میجر ڈگریز کے ساتھ چلائے جا رہے ہیں۔

    یونیورسٹی کے کمپیوٹنگ سینٹر کے ڈائریکٹر اور اے آئی پروگرام کے سربراہ لی حوئی کے مطابق، اس اقدام کا مقصد، زرعی علم اور اے آئی کی مہارتوں کو یکجا کرنا اور باصلاحیت افراد تیار کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کو نئے زرعی شعبوں کی ترقی میں شامل کرنا ہے۔

    یہ تبدیلی صرف زراعت تک محدود نہیں ہے۔ جیسے جیسے اے آئی اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز صنعتوں کو نئی شکل دے رہی ہیں، باصلاحیت افراد کی طلب میں بھی تبدیلی آ رہی ہے اور ایسے افراد کی مانگ بڑھ رہی ہے جو کسی خاص شعبے میں مہارت کو نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہم آہنگ کر سکیں۔ چین کے کیریئر پلیٹ فارم Maimai کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس سال جنوری سے اپریل تک، چین میں اے آئی سے متعلقہ ملازمتوں کی تشہیر سال بہ سال 8.7 گنا بڑھی ہے۔ چین کی 2022 کی پیشہ ورانہ درجہ بندی کے فہرست میں 158 نئی ملازمتیں شامل کی گئیں، جن میں سے 97 ڈیجیٹل نوعیت کی تھیں جس سے کل تعداد 1,639 تک پہنچ گئی۔

    تاہم، جامعات کے روایتی پروگرام، تبدیلی کی اس رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ ایک نیا شعبہ بنانے میں ابتدائی منصوبہ بندی سے لے کر منظوری اور طلبہ کے فارغ التحصیل ہونے تک چار سے پانچ سال کا عرصہ لگتا ہے۔ تھونگ جی یونیورسٹی میں تعلیمی پالیسی و تحقیق کے مرکز کے سربراہ جانگ دووان حونگ کے مطابق، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر چپس، قابل تجدید توانائی، اور حیاتیاتی علوم جیسے شعبوں میں ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے جو کہ بعض اوقات ہر چند ماہ میں بالکل تبدیل ہو جاتی ہے۔ یونیورسٹی کے پروگرام اپ ڈیٹ ہونے اور حقیقت میں جب صنعتوں کو ان مہارتوں کی ضرورت ہے ان کے درمیان ایک بڑا خلا ہے۔

    ریاستی تعلیم کے شعبے میں تیزی سے بہتری کے لیے مائیکرو میجرز ایک موثر حل ہیں۔ مارچ 2025 میں، وزارتِ تعلیم نے طلبہ کو ملازمتوں کے لیے زیادہ بہتر مہارتیں فراہم کرنے کی خاطر، ایک قومی منصوبے کا آغاز کیا جس کے تحت جامعات سے کہا گیا کہ وہ، 1,000 مائیکرو میجرز یا مخصوص کورسز کے گروپ اور ملازمت کے 1,000 تربیتی کورسز تیار کریں۔اس سال مئی تک، چین کی 1,433 جامعات نے تقریباً 10,000 مائیکرو میجرز کا آغاز کر دیا ہے جن میں تقریباً 300,000 طلبہ شامل ہوئے ہیں۔

    صلاحیتوں کا وسیع دائرہ کار

    مائیکرو-میجرز پروگرام، تین سے آٹھ اہم کلاسز پر مشتمل ہیں اور شام کے اوقات میں، ہفتہ وار یا چھٹیوں کے دوران باضابطہ تعلیمی سلسلے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں جن میں طلبہ آن لائن یا آف لائن دونوں طریقوں سے شرکت کر سکتے ہیں۔

    گوانگ دونگ میں ایک بین الاقوامی کمپنی کے ایچ-آر میں کام کرنے والی لی تھیان کا ماننا ہے کہ مائیکر-میجرز، طلبہ کو زیادہ عملی تجربہ حاصل کرنے اور کام کے حقیقی ماحول کے بارے میں سیکھنے کے حوالے سے بے حد مددگار ہوتے ہیں۔

    چائنا یوتھ ڈیلی کے سروے کے مطابق، ان پروگرامز کو مکمل کرنے والے 60 فیصد سے زائد افراد نے بتایا کہ انہوں نے نئے کام سے متعلقہ مہارتیں سیکھی ہیں اور ان میں سے نصف کی رائے میں اس تجربے نے ان کے علم اور نقطہ نظر کو وسیع کیا ہے۔

    نیا تعلیمی نمونہ

    طلبہ کے لیے چینی جامعات میں شروع کیے جانے والے مائیکرو-میجرز، محض اضافی مہارتیں سکھانے سے کہیں زیادہ مددگار ہیں۔ یہ سکولز کو اپنے تعلیمی پروگرامز کو بہتر بنانے اور طلبہ کو ملازمت کے تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول کے لیے تیار کرنے کے نئے طریقے آزمانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

    جہ جیانگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کالج آف جیو انفارمیشن کے ڈپٹی ڈین وو وی کا کہنا ہے کہ روایتی میجرز کے مقابلے میں مائیکرو-میجرز، زیادہ لچکدار ہیں اور نئی ٹیکنالوجیز اور صنعتوں کے سامنے آنے سے، جامعات اپنے تعلیمی پروگرامز تیزی سے اپ ڈیٹ کر سکتی ہیں۔

    حیلونگ جیانگ یونیورسٹی میں داخلے اور کیریئر گائیڈنس کی نگران لی حونگ منگ کا کہنا ہے کہ مائیکرو-میجرز، نئے تعلیمی پروگرامز کے لیے آزمائشی میدان کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ جامعات کو معلوم کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ کون سے کورسز اب مفید نہیں رہے اور کون سے مضامین کو مزید توجہ درکار ہے۔ آج کے کئی مائیکرو-میجرز، مستقبل میں ریگولر- میجرز ہوں گے۔

    جامعات، کمپنیز کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے کورسز تیار کرتی ہیں اور عملی تجربہ فراہم کرتی ہیں۔ آنہوئی پولی ٹیکنک یونیورسٹی نے علاقائی صنعتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایک مائیکرو میجر شروع کیا، جہاں کمپنیز طلبہ کو حقیقی مسائل حل کرنے کا موقع دیتی ہیں۔ فارغ التحصیل پہلے 40 طلبہ میں سے 85 فیصد نے اپنے شعبے میں ملازمت حاصل کی۔ یان شان یونیورسٹی میں، انڈسٹریل انٹیلی جنٹ کنٹرول میں طلبہ اپنا زیادہ تر وقت روبوٹ لیب میں کمپنی کے آلات استعمال کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ نصف سے زیادہ کورسز، کمپنی کے انجینئرز پڑھاتے ہیں۔ یہ پروگرام چین کے 2026-2030 کی تعلیمی منصوبے کے مطابق ہیں، جس میں یونیورسٹیز سے زیادہ مانگ والے شعبوں کے پروگرام بہتر بنانے اور پرانے مضامین کو اپ ڈیٹ کرنے کا تقاضا کیا گیا ہے۔ ماہرِ تعلیم جانگ دوان حونگ، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معیار، مقدار سے زیادہ اہم ہے۔ مائیکرو میجرز کو روایتی میجرز کی تکمیل کے طور پر کام کرنا چاہیے جو یونیورسٹی کی وسیع تر تبدیلیوں کا حصہ ہو نیز اس میں اسکول اور کاروبار کے درمیان مضبوط تعلقات اور بہتر کیریئر کی معاونت شامل ہو۔

    ویڈیوز

    زبان