• صفحہ اول>>چین پاکستان

    جی رونگ میں چین کے ریسکیو اور امدادی کام بروقت اور بے حد منظم تھے: پاکستانی صحافی محمد اصغر

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-09-17

    17 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)"میرے خیال میں، اس تباہ کن تودے کے بعد چین کے متعلقہ محکموں کا رد عمل بہت بروقت تھا۔ جو کچھ میں نے موقع پر دیکھا، اس کے مطابق چین نے جس طرح کام کیا وہ قابلِ تعریف اور قابلِ ستائش ہے۔" یہ خیالات ہیں بیجنگ میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے صحافی محمد اصغر کے جو چین کے شی زانگ میں جی رونگ بندرگاہ کے تودے سے متاثرہ مرکزی علاقے میں جانے والے پہلے غیر ملکی صحافیوں میں سے ایک تھے۔

    پیپلز ڈیلی آن لائن کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے امدادی کارروائیوں کے حوالے سے اپنا مشاہدہ اور تاثرات بیان کیے۔

    26 اگست کی صبح، نیپال کی جانب سے گلیشیئر ٹوٹنے کے باعث، پتھروں اور مٹی کے طوفانی رفتار سے آنے والے ریلے کے باعث، چین کے شی زانگ خود اختیار علاقے کی جی رونگ بندرگاہ پر بھاری جانی و مالی نقصان ہوا اور متعدد افراد لاپتا ہو گئے۔ 5 ستمبر کو شام 6 بجے تک، 43 افراد کے جاں بحق ہونے اور 519 کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہو چکی تھی۔ 5 اور 6 ستمبر کو، چینی وزارتِ خارجہ کے تعاون سے چین کی ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندگان کے ایک وفد کو، چین کے شی زانگ خود اختیار علاقے کی جی رونگ کاؤنٹی کے مرکزی متاثرہ مقام کا دورہ کروایا۔

    محمد اصغر نے بتایا کہ 5 ستمبر کو وہ غیر ملکی میڈیا نمائندگان کے ایک وفد کے ہمراہ بیجنگ سے لہاسا پہنچے، جہاں سے آگے جی رونگ تک کا سفر گاڑی کے ذریعے طے کیا اور متاثرہ مرکزی علاقے تک پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک دور افتادہ علاقہ ہے اور سڑکوں کی حالت بھی اس وقت اچھی نہیں تھی اس لیے گاڑی سے وہاں پہنچنے تک تقریباً 12 گھنٹے لگے۔ جی رونگ میں متاثرہ مرکزی علاقے میں داخل ہونے کے بعد ان لوگوں نے تباہی کے بعد کی صورتِ حال، ریسکیو، بحالی اور تعمیر نو کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

    متاثرہ مرکزی علاقے میں دیکھے گئے مناظر کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد اصغر نے بہت جذباتی انداز میں کہا کہ جائے وقوعہ کی صورتحال بہت بہت دردناک تھی۔ انہوں نے اس تودے سے ہونے والی تباہی اور امدادی کاموں کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا براہِ راست مشاہدہ کیا۔ متاثرہ علاقہ بلند سطح پر واقع تھا اور راستہ تنگ اور پیچیدہ تھا۔ متاثرہ مرکزی علاقے میں بہت زیادہ کیچڑ اور بڑے چٹان نما پتھر تھے، جن کی صفائی کے لیے بھاری مشینری درکار تھی۔ ریسکیو اہلکاروں کو موقع پر کام کرنے کے لیے بلند سطح کے ماحول کی سختی سمیت متعدد چیلنجز پر قابو پانا پڑتا ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے صحافی محمد اصغر، جی رونگ میں مٹی کے تودے سے تباہ شدہ مقام کا دورہ کر رہے ہیں۔(تصویر بشکریہ-اے پی پی)

    ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے صحافی محمد اصغر، جی رونگ میں مٹی کے تودے سے تباہ شدہ مقام کا دورہ کر رہے ہیں۔(تصویر بشکریہ-اے پی پی)

    محمد اصغر نے کہا کہ جب صحافیوں کا وفد متاثرہ مرکزی علاقے میں پہنچا تو ٹریفک اور مواصلات کا نظام کافی حد تک بحال ہو چکا تھا اور موبائل سروس معمول کے مطابق استعمال کی جا سکتی تھی۔ وہاں لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں معلوم ہوا کہ چینی ریسکیو فورسز نے مختصر وقت میں موقع پر پہنچ کر سڑک کی بحالی اور لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کی سرگرمیوں میں پوری طاقت سے حصہ لیا۔

    محمد اصغر کا کہنا تھا کہ وہ چین کی جانب سے امدادی کاموں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے خاص طور پر ذکر کیا کہ جی رونگ میں مٹی کے تودے کی تباہی کے مقام پر پیچیدہ جغرافیائی حالات کی وجہ سے عام طیارے اور ہیلی کاپٹر اترنا مشکل تھا، لیکن ڈرون کے استعمال نے امدادی کاموں کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بڑھایا۔ محمد اصغر کے خیال میں چین، مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور چین نے اس جدید ٹیکنالوجی کو ریسکیو کے کاموں میں استعمال کر کے بے حد اچھے نتائج حاصل کیے ہیں۔

    انہوں نے شی زانگ خود اختیار علاقے کی جانب سے غیر ملکی میڈیا نمائندگان کے وفد کو جی رونگ کاؤنٹی میں آفت زدہ مقام کے دورے کے دوران، رپورٹنگ کی تمام سہولیات فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی رونگ کاؤنٹی کے 8.26 لینڈ سلائیڈ ایمرجنسی ریسکیو کمانڈ سینٹر نے چینی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لیے ایک ملاقات کا اہتمام بھی کیا، جس میں غیر ملکی صحافیوں کو امدادی کارروائیوں کی تازہ ترین معلومات سے آگاہ کیا گیا۔ محمد اصغر نے بتایا کہ چین کے متعلقہ محکموں کے ذمہ داران نے صحافیوں کے سوالات کا تفصیلی جواب دیا اور تازہ ترین اعداد و شمار، ریسکیو کی پیش رفت اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے اقدامات سمیت دیگر کارروائیوں کی تفصیلات بیان کیں اور یہ دورہ بے حد منظم اور معلوماتی رہا۔

    14 ستمبر کو منعقدہ پریس کانفرنس میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے بتایا تھا کہ چین نے متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں کو لاپتا غیر ملکی افراد کے اہل خانہ کے ڈی این اے کی معلومات جمع کرنے کے طریقے سے آگاہ کر دیا ہے۔ اگر جاں بحق غیر ملکی افراد کی لاشوں کی شناخت ہو جاتی ہے تو متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں کو انتظامات سے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔ شی زانگ خود اختیار علاقے نے لاپتا غیر ملکی افراد کے اہل خانہ کے لیے ہاٹ لائن کا بھی آغاز کیا ہے جو اہل خانہ کو بروقت خدمات فراہم کر رہی ہے۔

    7ستمبر کو، چین کے شی زانگ کی جی رونگ کاؤنٹی میں مٹی کے تودے کی تباہی سے متاثرہ، عارضی طور پر منتقل کیے گئے لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی کا آغاز ہو گیا۔(شنہوا-تین زنگ نیما قادھپ)

    7ستمبر کو، چین کے شی زانگ کی جی رونگ کاؤنٹی میں مٹی کے تودے کی تباہی سے متاثرہ، عارضی طور پر منتقل کیے گئے لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی کا آغاز ہو گیا۔(شنہوا-تین زنگ نیما قادھپ)

    اطلاعات کے مطابق، جی رونگ میں مٹی کے تودے کی یہ تباہی، درجہ حرارت میں اضافے کے طویل مدتی اثرات کے باعث گلیشیئرز کے عدم استحکام کی وجہ سے ہوئی۔ اچانک رونما ہونے والے اس تباہ کن واقعے میں، سیلاب کی سطح بے حد بلند تھی، بہاؤ بہت تیز تھا، تباہی کی شدت زیادہ تھی اور اثرات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ یہ چنگھائی تبت سطح مرتفع اور اس کے گرد و نواح میں کرائسوفیئر ڈیزاسٹر کی نئی، نمایاں خصوصیات ہیں۔

    محمد اصغر کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی پوری انسانیت کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے، جس کا مقابلہ کوئی بھی ملک تنہا نہیں کر سکتا۔ دنیا کے تمام ممالک کو فعال اقدامات کرتے ہوئے مشترکہ پالیسیز بنانی ہوں گی۔ انہوں نے خاص طور پر نشاندہی کی کہ اس وقت چین، گرین انرجی کی ترقی میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے ہوا، شمسی توانائی اور صاف توانائی کے دیگر ذرائع میں بھرپور ترقی کی ہے، جس نے دنیا کے دیگر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے قیمتی تجربہ فراہم کیا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان