
صوبہ گوانگ دونگ کے شہر شین زن کی سمارٹ پورٹ پر کسٹم اہلکار، ایک انٹیلی جنٹ انسپیکشن روبوٹ کی مدد سے، اپیک ممالک سے درآمد کیے جانے والے ڈوریئن کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔(تصویر۔شیا حواتھیان)
17 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)شین زن کے شہ کھو ٹرمینل پر ایک مال بردار جہاز، 300 ٹن تھائی مون تھونگ ڈوریئن لے کر پہنچا تو گوانگ دونگ کسٹم کے عملے نے سمارٹ انسپیکشن روبوٹ استعمال کرتے ہوئے، لیبلز کی تصدیق کی اور نمونوں کو فوری تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجوایا۔ اس کے بعد یہ پھل گوانگ دونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ گریٹر بے ایریا کی سپر مارکیٹس میں پہنچا۔
گوانگ جو میں پھلوں کی دکان پر 500 گرام تھائی مون تھونگ ڈوریئن 17.8 یوان (2.65 ڈالر) میں دستیاب ہے۔ جانگ شن یہاں کے مقامی فرد ہیں وہ بتاتے ہیں کہ پہلے 500 گرام ڈوریئن کم سے کم بھی 20 یوان کا ہوتا تھا یعنی 3 کلو کا پھل تقریباً 200 یوان میں آتا تھا۔ آج، وہی پھل اسی وزن میں تقریباً 100 یوان میں ملتا ہے اور اب یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی قوتِ خرید میں ہے۔

ایک سیاح گوانگ جو بائی یون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر، چین میں داخلے کے لیے پاسپورٹ کی جانچ کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔(تصویر بشکریہ۔گوانگ جو ڈیلی)
شین زن کسٹمز کے اعداد وشمار کے مطابق، اس سال اپریل سے جولائی تک شین زن کی بندرگاہوں کے ذریعے 797 ملین یوان مالیت کے 26,200 ٹن تازہ انناس درآمد کیے گئے جو کہ سال بہ سال، بالترتیب 40.86 فیصد اور 22.62 فیصد کا اضافہ ہے اور دونوں اعداد و شمار ریکارڈ سطح تک پہنچے ہیں۔ تھائی لینڈ، ملائیشیا، اور دیگر اپیک ممالک انناس کی درآمد کے اہم ذرائع ہیں۔
تجارت و سرمایہ کاری کی آزادی اور سہولیات کو مسلسل فروغ دینے کے لیے اپیک کی کوششوں سے استفادہ کرتے ہوئے مختلف درآمدی اشیا مثلاً آسٹریلیا سے درآمد کیا گیا گوشت، چلی سے درآمد شدہ چیری، نیوزی لینڈ سے پاؤڈرڈ دودھ اور جنوبی کوریا سے درآمد کردہ کاسمیٹکس چین میں تیزی سے سستی ہو رہی ہیں، جس سے صارفین کو انتخاب کے مزید مواقع مل رہے ہیں۔
2025-2026 کے پیداواری سیزن کے دوران، چلی نے چیری کی ریکارڈ 655,000 ٹن پیداوار کی، جس میں سے 90 فیصد سے زیادہ چینی مارکیٹ میں بھیجی گئی۔ یہ اعداد و شمار "ایشیا-بحرالکاہل تعاون" کے ایک مضبوط نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔ چین-چلی آزاد تجارتی معاہدے سے تقریباً 98 فیصد اشیا پر ٹیرف ختم ہو گیا ہے۔ چیری کے لیے مختص جہازرانی کے راستوں کی تعداد 32 تک بڑھ گئی ہے اور ترسیل کا وقت 28 دن سے کم ہو کر 23 دن رہ گیا ہے۔ گوانگ جو کی نان شا بندرگاہ پر اترنے والا تازہ مال صرف دو گھنٹوں میں کسٹمز سے نکل جاتا ہے۔ کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دس سالوں میں گریٹر بے ایریا کے 9 شہروں اور دیگر اپیک ممالک کے مابین تجارت، 46 فیصد بڑھی ہے۔کم ٹیرفس، تیز رفتار شپنگ اور کسٹمز کی تیز کارروائی یہ سب مل کر خریداروں کے لیے کم قیمت میں اشیا کی دستیابی کو ممکن بناتے ہیں۔
گوانگ جو بئے یون بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 2 میں، غیر ملکی مسافروں کی ایک بڑی تعداد امیگریشن کی قطار میں کھڑی تھی، تاہم سنگاپور کی کاروباری خاتون لین، جہاز سے اتر کر سیدھی اپیک بزنس ٹریول کارڈ کا استعمال کرنے والوں کے مخصوص کاونٹر کی جانب گئیں جہاں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں امیگریشن کا تمام عمل مکمل ہو گیا، جب کہ پہلے انہیں 20 منٹ سے بھی زیادہ دیر تک قطار میں کھڑا رہنا پڑتا تھا۔ یہ بزنس ٹریول کارڈ پانچ سال کے ویزے کی طرح کام کرتا ہے، جس سے 16 اپیک ممالک میں متعدد دوروں کی سہولت ملتی ہے۔

صوبہ گوانگ دونگ کے شہر، شین زن کا فضائی منظر۔( لینگ وین)
بئے یون امیگریشن انسپکشن سٹیشن کے مطابق، اس سال اگست کے آخر تک گوانگ جو بئے یون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر، اپیک ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی آمد و رفت 31.6 ملین سے زائد رہی جو سال بہ سال 36.4 فیصد کا اضافہ ہے اور ان میں سے تقریباً 16,000 اپیک بزنس ٹریول کارڈ ہولڈرز تھے۔
گوانگ دونگ یونیورسٹی آف فارن سٹڈیز کے نائب صدر اور ڈائریکٹر شین منگ حاؤ کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے سے اپیک علاقائی تعاون کے نتائج روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں جن سے لاکھوں گھرانے استفادہ کر رہے ہیں اور اس نے عام لوگوں کے طرزِ زندگی اور معیارِ زندگی کو بدلتے ہوئے ان پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔



