21 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 20ستمبر کو بیجنگ میں، سائنس کی خواندگی سے متعلق ایک عالمی تنظیم "ورلڈ آرگنائزیشن فار سائنس لٹریسی" کا قیام عمل میں آیا۔
ورلڈ آرگنائزیشن فار سائنس لٹریسی 2026 کی افتتاحی تقریب میں، تنظیم کی جانب سے علمی اشتراک اور ٹیم ورک کی حوصلہ افزائی، مشترکہ تحقیق کی کوششوں کو مضبوط بنانے نیز سائنس، ٹیکنالوجی اور کمیونٹیز کے مابین بہتر روابط قائم کرنے کا عہد کیا گیا۔ تنظیم کا مقصد عوام میں سائنس کی سمجھ بوجھ بڑھانا اور ایک زیادہ ذہین معاشرہ تشکیل دینے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی ایک عالمی تنظیم کے طور پر، اب ایشیا، یورپ، جنوبی امریکا، افریقا اور اوشیانیا کے 21 ممالک سے 32 بنیادی ارکان اس کا حصہ ہیں۔
چین کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن کی مدد سے شروع ہونے والی یہ تنظیم رواں سال جون میں باضابطہ طور پر رجسٹر ہوئی تھی۔
جیسے جیسے عالمی سطح پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے چیلنجز بڑھ رہے ہیں، دنیا کو سائنس کی تعلیم عام کرنے پر بات چیت کرنے اور مل کر کام کرنے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ حال ہی میں چین نے، عوام میں سائنس کی سمجھ بوجھ اور تعلیم پر پہلے کی نسبت زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔ 2025 میں، تقریباً 16.74 فیصد چینی لوگوں کے پاس کافی اچھی سائنسی معلومات تھیں، جس سے کم سطح سے اوسط سطح تک حقیقی ترقی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ چین نے، سائنسی تعلیم کے علمی پروگرامز میں بھی حصہ لیا ہے جس نے سائنس کے بارے میں مزید سیکھنے کے لیے غربت سے متاثرہ علاقوں اور مخصوص گروہوں کے لوگوں کی معاونت کی ہے۔
ورلڈ فیڈریشن آف سائنٹفک ورکرز کی شریک صدر، ایلیس مولنز کا کہنا ہے کہ سائنسی علم اب پہلے کی نسبت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لوگ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد اور خطرات دونوں کو سمجھتے ہیں، تو اس سے نئی دریافتوں کے ساتھ سامنے آنے والے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔



