
صوبہ گوانگ دونگ کے شہر، جوہائی کے جزیرے، حینگ چِھن کے چھانگ لونگ سپیس پارک میں ایک AgiBot روبوٹ، روایتی چائے کی پیشکش کا عملی مظاہرہ کر رہا ہے۔ (تصویر بشکریہ چھانگ لونگ گروپ)
21 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 20ستمبر کو، جوہائی کے جزیرے، حینگ چِھن کے چھانگ لونگ سپیس پارک میں دنیا کا سب سے پہلا لارج-سکیل ایمباڈیڈ اے آئی تھیم پارک کھول دیا گیا۔ چین کی ایمباڈیڈ اے آئی روبوٹ ساز کمپنی AgiBot اور ثقافتی سیاحتی کمپنی، چھانگ لونگ گروپ کے تعاون سے بنایا گیا یہ پارک، سیاحت میں فائیو جی -اے ٹیکنالوجی کے ساتھ ایمباڈیڈ اے آئی روبوٹس کے بڑے پیمانے پر استعمال کے حوالے سے اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا سب سے بڑا پارک ہے، جس میں AgiBot کی روبوٹ رینج کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس 300 سے زائد روبوٹس موجود ہیں۔
یہ پارک، سات بنیادی منظرناموں کا احاطہ کرتے ہوئے تفریح اور تجارتی کارکردگی، سائنسی تعلیم اور مطالعاتی دوروں، ٹور گائیڈنس و خریداری میں معاونت، سروس اور ریٹیل سٹیشنز، انٹیلی جنٹ ٹور کمپینئن، ہوٹل سروسز اور کھیلوں کے مقابلوں سمیت 100 سے زائد روبوٹ تعاملات پر مشتمل ہے۔ ایک جیسے ماڈلز والے AgiBot روبوٹس، ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں سونے کے تمغوں اور مجموعی تمغوں کے ساتھ پہلے درجے پر رہے تھے۔ اپنی مربوط مصنوعات اور ٹیکنالوجی کے ڈھانچے کی بدولت، AgiBot، شپمنٹ اور ریونیو کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ایمباڈیڈ اے آئی کمپنی بن چکی ہے جو کہ روبوٹ ہارڈویئر کی مطابقت اور بڑے پیمانے پر ترسیل کی صلاحیتوں کے باعث، صنعت کے رہنماؤں میں شمار ہوتی ہے۔
ٹیک پالیسی کے مبصر اور ٹیلی کمیونیکیشن کے تجربہ کار شیانگ لی گانگ کی رائے میں، "تھیم پارکس میں روبوٹس لانے" سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ تھیم پارک، ایمباڈیڈ اے آئی کو بڑے پیمانے پر، پیچیدہ اور ہائی فریکوئنسی انسان-روبوٹ تعامل کے منظرنامے فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجسم ذہانت کی ترقی صرف لیبارٹریز میں تیار کردہ ماڈلز اور ہارڈویئر پر انحصار نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کے لیے حقیقی دنیا کی ایپلیکیشنز کے ذریعے مسلسل ڈیٹا جمع کرنے اور تکنیکی توثیق درکار ہے۔
چھانگ لونگ سپیس پارک ایک جامع تعلیمی منصوبے کا آغاز کر رہا ہے جس میں، خلائی تحقیق اور سمندری حیات کی تعلیم کو مکمل طور پر تجربے و مشاہدے کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ اب تک اس پارک میں ایک کروڑ سے زائد لوگ آ چکے ہیں۔
دنیا بھر میں کوئی بھی تھیم پارک اتنے بڑے پیمانے پر روبوٹس اور متعدد منظرناموں کو ایک مکمل تجربے کے ساتھ یکجا نہیں کرتا۔ بین الاقوامی پارکس نے صرف چھوٹے منصوبوں میں روبوٹس کو جانچا ہے، جس سے باقاعدہ آپریشنز مشکل ہو جاتے ہیں۔ چین کو ایمباڈیڈ اے آئی ٹورازم میں برتری حاصل ہے کیونکہ اس کے پاس مضبوط صنعتی نظام، بہت بڑی سیاحتی مارکیٹ اور جدید انفراسٹرکچر موجود ہے۔ 2018 میں مجسم ذہانت کی مارکیٹ 213.3 ارب یوآن تھی جو کہ 2026 میں 1.09 کھرب یوآن ہونے کی توقع ہے اور اس کی سالانہ ترقیاتی شرح، 22 سے 23 فیصد ہے۔
چینی صارفین کی بڑی بنیاد، روبوٹکس کی مکمل صنعت اور کاروباری مواقع، 'ایپلی کیشن-ڈیٹا-امپروومنٹ' کا ایک ایسا دائرہ بناتے ہیں جس میں ترقی کی بھرپور صلاحیت ہے۔ ماہرین کو توقع ہے کہ اسی طرح کے تھیم پارک منصوبے جلد ہی چین بھر میں پھیل جائیں گے۔



