تحریر و تصاویر : سارا افضل

چین دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا مسکن ہے ، دنیا یہاں سے صرف کاغذ ، ریشم ، چائے اور الف لیلوی داستانوں ہی سے واقف نہیں ہوئی تھی بلکہ کئی مذاہب نے یہاں اپنے آثار نقش کیے ہیں کئی شاہی خاندانوں کے عروج و زوال کی داستانیں یہاں درج ہیں اور چین نے ان سب کو بہت نفاست اور تیکنیکی مہارت کے ساتھ محفوظ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ، اقوامِ متحدہ کے عالمی تاریخی ورثے کی فہرست میں چین، عالمی ثقافتی ورثے کے 61 مقامات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اور ان 61 مقامات میں سے 42 ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں ۔
حالیہ دنوں میں نے ،انہی 42 میں سے ایک بے حد اہم مقام ، یونگ گانگ غاروں کا سفر کیا۔ صوبہ شانشی کے شہر داتھونگ میں موجود، شمالی وئے شاہی دور میں پتھروں کو تراش کر تعمیر کی جانے والی چینی بدھ مت کی یہ خانقائیں، غاروں کے طرزِ تعمیر کی بہترین مثالیں ہیں ۔ سال 2001 میں، یونگ گانگ غاروں کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا ۔ یونیسکو کے مطابق یہ تمام غار، ابتدائی چینی بدھ مت کے " گروٹو آرٹ " کا "شاہکار" ہیں ۔یہ عکاس ہیں کہ جنوبی اور وسطی ایشیا سے بدھ مت کے مذہبی فن نے چینی روایات کے ساتھ کس قدر کامیاب امتزاج کیا۔ چین کی قومی انتظامیہ برائے سیاحت نے اسے فائیو اے درجے کے سیاحتی علاقے کی درجہ بندی میں شامل کیا ہے۔

ان کی تاریخ تو آپ انٹر نیٹ سے بھی دیکھ ہی سکتے ہیں اور یہاں پر تاریخ بتانا میرا مقصد بھی نہیں ہے ۔ میں تو اپنے اس مشاہدے کا ذکر کروں گی جس سے مجھے اکثر لوگوں کے پوچھے گئے اس سوال کا جواب ملا کہ
کیا رہ گیا ہے شہر میں کھنڈرات کے سوا
کیا دیکھنے کو اب یہاں آئے ہوئے ہیں لوگ (شاعر : اظہر عنایتی)
ہم آثارِ قدیمہ ہی تو دیکھنے جا رہے ہیں اور میرا خیال تھا کہ وہاں زیادہ رش نہیں ہوگا ،شاید ہم جیسے چند غیر ملکی سیاح ہی ہوں گے۔ لیکن یہاں لوگوں کا ایک ہجوم تھا جس میں بچوں سے لے کر معمر افراد تک سب شامل تھے ۔
ویسے تو لغت میں ، کھنڈر کا مطلب ویرانہ ، اجڑی ہوئی بستی ، ماضی کے وہ آثار جہاں زندگی نہ ہو وغیرہ بتائے گئے ہیں اور کئی مقامات ایسے ہی بے کشش اور گم سم نظر بھی آتے ہیں۔ لیکن چین میں ہزاروں سال پرانے کھنڈرات ہوں یا عجائب گھر، یہ سب خاموش نہیں ہیں بلکہ یہ آپ کو بلاتے ہیں ، کہانیاں سناتے ہیں۔ ان کھنڈرات میں چھپی کہانیوں کو ڈھونڈنا بھی ایک فن ہے اور پھر اس کو محفوظ رکھنا اور ان کہانیوں کو اگلی نسلوں تک پہنچانا ایک ذمہ داری ہے اور چین میں رہتے ہوئے میں نے دیکھا ہے کہ چینی حکومت اور عوام مل کر اس ذمہ داری کو کتنی عمدگی سے نبھا رہے ہیں۔

بلاشبہ ہر غار کے اندر داخل ہوتے ہی ایک نئی کہانی ، نئے کرداروں کے ساتھ سامنے آتی تھی۔ ہر کردار ساکن رہتے ہوئے بھی اپنے دور کے جاہ جلال اور اس دور کے فنکاروں کی انتہائی عقیدت و مہارتِ فن کی عکاسی کرتا تھا۔ یہ عقیدت فرش سے لے کر چھت تک نقش ہے ۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے نقاشی اور مجسمہ سازی کے نازک اور نفیس نمونوں کو جس انداز سے محفوظ کیا اور ان کو لوگوں کی پہنچ اور نظر سے دور بھی نہیں ہونے دیا وہ یقیناً قابلِ تعریف ہے ۔ جس بات نے مجھے بہت متاثر کیا وہ لوگوں کا ان مقامات کو دیکھتے ہوئے عقیدت کے ساتھ ساتھ احتیاط کو ملحوظ رکھنا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ ہاتھ نہیں لگانا ، یہاں کچھ تحریر نہیں کرنا ، چھوٹی سی جگہ ہے یہاں رک کر تصویریں بناتے ہوئے پیچھے آنے والے لوگوں کا راستہ نہیں روکنا ورنہ بد نظمی کے باعث کسی ایک کونے سے بھی کوئی ٹکڑا اکھڑ گیا تو اس ورثے کو نقصان پہنچے گا۔

غار نمبر 12 بہت ہی منفرد بہت ہی رنگین غار ہے ، یہاں کی دیواروں اور چھتوں کی آرائش قابل دید ہے۔ انتہائی نفیس انداز میں بدھا، موسیقاروں اور پرواز کرتی اپسراؤں کی تصاویر سے آراستہ اس غار میں داخل ہوئے وقت میرے آگے آگے ایک 9 یا شاید 10 سال کا بچہ اپنے والدین کے ساتھ چل رہا تھا ۔ اس نے بے اختیار ایک دیوار پر بنے نمونوں کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ساتھ چلتی والدہ نےاس کا ہاتھ تھام کر اسے روکا ، بچے نے کہا میں دھیان سے ہاتھ لگاوں گا تو والد نے کہا ، آپ دھیان سے ہاتھ لگا لو گے لیکن اگر آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی ایسے کرنے لگے تو یہ خوبصورت اور نازک نمونے ٹوٹ جائیں گے ، کیا آپ چاہو گے کہ ہماری یہ چیز خراب ہو ؟ یہ سن کر بچے نے ہاتھ پیچھے کر لیا ہاں البتہ والد کوکہا کہ مجھے دیوار کے اور قریب ہو کر چلنے دیں تاکہ میں انہیں زیادہ واضح طور پر دیکھ سکوں۔ یہ کہنے کو ایک چھوٹا سا عمل تھا لیکن اس کے پیچھے جو " احساسِ ذمہ داری " اور احساسِ ملکیت" ہے وہ بے حد اہم ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کا ذکر میں نے شروع میں کیا کہ " چینی حکومت اور عوام مل کر "انہیں محفوظ رکھتے ہیں، انہیں اپناتے ہیں انہیں اپنا ورثہ مانتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔

ماضی واپس نہیں لایا جا سکتا لیکن ماضی کے قابلِ فخر اثاثوں پر فخر کو مستقبل کی عمارات کی بنیاد ضرور بنایا جا سکتاہے۔ کتب خانوں میں موجود چینی ادب سے لے کر ، عجائب گھروں، اور تاریخی عمارات و مقامات کے میورلز سے متاثر ہوتے نوجوان تخلیق کاروں کی اختراعات کے ذریعے آج آپ کو روایتی چینی ثقافت اور جدت کا امتزاج ، چین کے کھانے پینے کی اشیا سے لے کر، کھلونوں کی بین الاقوامی برینڈز اور پیرس، نیویارک کے رن وے تک نظر آتا ہے ۔ مقامی مارکیٹس سے بین الاقوامی سٹیج تک چینی ثقافت نوجوانوں کے ذریعے ، عصرِ حاضر کے انداز کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اپنی نئی پہچان بنا رہی ہے اور اس کا سبب ؟ جی اس کا سبب یہ کہ عجائب گھروں اور آثارِ قدیمہ کو " بورنگ " اور "خاموش" نہیں رہنے دیا گیا انہیں اتنا " پر کشش " اور باتیں کرتا ہوا بنایا گیا ہے کہ بچے شوق سے یہاں آتے ہیں . سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2025 میں چینی عجائب گھروں کا دورہ کرنے والوں کی تعداد 56۔ 1ارب سے زیادہ رہی اور سال کے آخر تک ملک میں رجسٹرڈ عجائب گھروں کی تعداد 7,188 ہو چکی تھی ۔

میرے لیے ماضی کے رہن سہن کو کھوجنا ، دیکھنا اور اس کے بارے میں جاننا ہمیشہ سے ایک خاص کشش رکھتا ہے کیونکہ یہ انسانی تہذیب و ارتقا کی کہانی بیان کرتے ہیں ۔ اپنے اسی تفریحی دورے کے دوران، داتھونگ میوزیم بھی جانا ہوا۔ 2014 میں مکمل کی جانے والی ڈبل ایس طرز کی یہ عمارت یانبئے علاقے کی 2ہزار سال قدیم تاریخ و ثقافت کو سمجھنے کی بہترین جگہ ہے۔ اس علاقے میں پائے جانے والے ڈائنوسارز کے آثارسے لے کر نفیس زیورات تک تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار نوادرات یہاں محفوظ ہیں ۔

میوزیم میں ایک سیکشن میرے لیے دلچسپی کے ساتھ ساتھ متاثر کن بھی تھا اور وہ حصہ تھا جہاں بچوں اور ان ان قدیم آثار کے درمیان ایک تعلق قائم کیا گیا تھا ۔ جی ، جدت اور مصنوعی ذہانت آج کے دور کی علامت ہیں اور اس کے ذریعے مزید دریافت کرنا بچوں کے لیے بے حد دلچسپ تجربہ ہوتا ہے ۔ اس سیکشن میں بچے سکرینز پر مختلف کوئز حل کرتے ہیں ، کسی بھی نمونے کی تفصیلات حاصل کرتے ہیں اور مزیدسوالات کرتے ہوئے اپنی معلومات میں اضافہ بھی کرتے ہیں ۔

اس عجائب گھر وہ سیکشن جہاں نہایت ہی رنگا رنگ سیکشن میں نوعمر بچوں کی تخلیقات رکھی گئی تھیں میرے لیے بے حد متاثر کن تھا ۔ عجائب گھر کے ثقافتی پروگرامز کو مزید بہتر بنانے کے لیے سیکھنے اور تعلیم کے مقصد سے وقف مختلف سیکشنز میں بچوں کے اختراعی وتخلیقی فن پاروں کی نمائش گاہیں، میڈیا لائبریری ، تاریخی دستاویزات کا ذخیرہ اور فنون کو محفوظ کرنے کی سہولیات شامل ہیں۔ تاریخ سے اختراعی و تخلیق کی تحریک لیتے ہوئے یہ بچے ، اپنی شناخت ، اپنی روایات ، اپنے ماضی کو کھوجتے، سمجھتے ، اس سے متاثر ہوتے ہوئے قدیم و جدید کے امتزاج سے اسے دنیا کے سامنے مزید پرکشش ، مزید قابلِ فخر اور مزید بیش قیمت بناتے ہوئے ایک نئی صنعت ایک نیا رجحان بنا رہے ہیں۔ تاریخ خود کو زیادہ متاثر کن روپ میں دہرا رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تاریخ ایک نیا مستقبل بنا رہی ہے۔




