8 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کی بحری معیشت 2025 میں،11 ٹریلین یوان (1.64 ٹریلین ڈالر) سے زائد رہی۔ سمندری معیشت میں روزمرہ کے وسائل جیسے مچھلی اور سمندری جڑی بوٹیوں سمیت، بڑے منصوبے جیسے آف شور ونڈ فارمز اور گہرے سمندر کو دریافت کرنے کے آلات شامل ہیں۔ سمندری وسائل پر مبنی کوئی بھی کاروبار، جو سمندری اثاثوں کو عملی فوائد اور صنعتی ترقی میں تبدیل کرتا ہے سمندری معیشت سے تعلق رکھتا ہے۔
اس کو ترقی کیوں دی جائے؟
چین کے پاس ایک وسیع ساحل ہے۔ سمندری ترقی ،معاشی ترقی کو برقرار رکھنے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔ سمندروں کے تحفظ کا مطلب آنے والی نسل کے لیے ایک بہتر مستقبل کو محفوظ کرنا ہے۔
یکم جولائی 2025 کے اجلاس میں، سمندری معیشت کو فروغ دینے کے لیے پانچ اہم شعبوں پر زور دیا گیا : ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کی جانے والی ترقی، سمارٹ کو آرڈینیشن، کاروبار کی منتقلی، انسان اور فطرت کے درمیان توازن اور مشترکہ فوائد۔ یہ اہداف ایک مضبوط سمندری معیشت کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔
چین کی ونڈ ٹربائینز گہرے سمندروں کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
2025 میں، چین نے دنیا بھر میں ہوا کی توانائی کی صلاحیت کا تقریباً تین چوتھائی حصہ بنایا۔ تاہم، کم گہرے پانیوں میں ونڈ فارمز کے لیے جگہ کم ہے۔ دنیا کے سمندری ہوا کے 80 فیصد سے زیادہ وسائل گہرے پانیوں میں موجود ہیں، جہاں روایتی مشینیں محفوظ طریقے سے کام نہیں کر سکتیں۔
مسل کی کاشت، زمین اور سمندر کے درمیان بہتر تعاون پیدا کرتی ہے
ایک وقت تھا کہ کسان غیر متوقع موسم کا سامنا کرتے ہوئے اکیلے کام کرتے تھے۔ اب حکومتی مدد، جدید اوزار، فنڈنگ اور مضبوط برینڈنگ سے کمیونٹیز کو برینڈنگ میں مدد ملتی ہے۔ بیج اگانے سے لے کر مصنوعات کی فروخت تک، زمین پر ہونے والی نئی اختراعات، سی فارمنگ تک ہر مرحلے کو ایک دوسرے سے منسلک کرتی ہیں۔
سمندری تحفظ اور دیہی ترقی کے ذریعے بنجر ساحلی زمینیں تبدیل ہو گئی ہیں
سمندر کی حفاظت کے لیے جب حقیقی معنوں میں کوششیں کی جاتی ہیں، تو سمندر اس کا صلہ دیتا ہے۔ آج، آبی زراعت کے سائنسی اور معیاری طریقے استعمال کرتے ہوئے، کسان ہر بار 4,000 کلوگرام سمندری خوراک حاصل کر سکتے ہیں، جس کی فی کلو گرام قیمت 30 سے 36 یوآن ($4-$5) کے درمیان مستحکم ہے، یعنی منافع مستحکم ہے اور خطرات کم ہیں۔ ان علاقوں سے اب وہ دن گئے جب اندھا دھند کام کرنے کی وجہ سے ماہی گیروں کو نقصان ہوتا تھا۔
آج، چین کی سمندری ماہی گیری، جہاز سازی اور سمندری انجینئرنگ کا سامان اور آف شور ونڈ پاور کی صنعتیں دنیا کی سب سے بڑی صنعتوں میں شامل ہیں۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا دورانیہ، چین کے لیے ایک بڑے بحری ملک سے ایک مضبوط بحری ملک کی طرف بڑھنے کا اہم مرحلہ ہے۔ وسیع نیلا علاقہ لاکھوں خاندانوں کو خوراک فراہم کرتا ہے،ملکی و بین الاقوامی سرگرمیوں کے لیے ایک اسٹیج مہیا کرتا ہے اور اس میں اعلیٰ معیار کی ترقی کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔



