18 اکتوبر کوچین کے شہر شن زن میں منعقدہ نیشنل ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کانفرنس 2026 میں، پہلا چینی ساختہ ایک لاکھ کارڈزپر مبنی اے آئی سپر کلسٹر، جو اسی سال تیار کیا گیا ہے، عام شہریوں کے لئے پیش کیا گیا ۔اس موقع پراطلاق کی دس بڑی کامیابیاں بھی جاری کی گئیں۔
چین کے نیشنل سپر کمپیوٹنگ انٹرنیٹ کے کور نوڈ(core Node) کے چیف انجینئر لی بین نےبتایا کہ کمپیوٹر ٹاور کا وزن 1,500 ٹن ہے اور اس میں موجود مختلف کیبلز کی کل لمبائی 1,600 کلومیٹر ہے۔ ہر پورٹ کی رفتار 800 جی بی ہے جو کہ 100جی بی کا ڈیٹا فی سیکنڈ منتقل کرنے کے برابر ہے۔ ایک لاکھ کارڈز پر مشتمل اس اے آئی سپر کلسٹر کی فی سیکنڈ کمپیوٹنگ پاور، پوری انسانیت کے 200 سالوں کی مسلسل کمپیوٹنگ کی صلاحیت کے برابر ہے، اور یہ نئے مواد، اختراعی ادویات، اور مصنوعی ذہانت سمیت 20 سے زیادہ شعبوں کے 300 سے زیادہ کمپیوٹنگ مشنز کی مدد کر رہا ہے۔ فی الحال، مواد، الیکٹرومیگنیٹکس، کوانٹم میکینکس، بائیو میڈیسن، اور فلکیات اور موسمیات جیسے جدید شعبوں میں 300 سے زیادہ اہم سائنسی تحقیقی منصوبوں کواس کلسٹرکے ساتھ ہم آہنگ کرکے چلایا جا رہا ہے۔



