14 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے صوبے گوئے جو کے چھیانگ دونگ نان میاؤ اور دونگ خوداختیار پریفیکچر کے شہر ، چھی لی کے قومیتی ثقافتی پارک میں ہر جمعے، ہفتے اور اتوار کی شام منعقد ہونے والا فیشن شو اپنی نوعیت کا ایک خاص فیشن شو ہے۔ اس میں رن وے پر فیشن واک کرتے ماڈلز 'پروفیشنل ماڈلز "نہیں ہیں بلکہ رونگ جیانگ، ٹسونگ جیانگ اور لی پھینگ جیسی آس پاس کی کاونٹیز کے عام دیہاتی ہیں۔ ان میں ماہر دستکاروں کے ساتھ ساتھ دن بھر گھروں میں بیٹھ کر سلائی کڑھائی کرنے والی ،مارکیٹ میں ٹھیلے یا دکان چلانے والی اور اپنے خاندان کی دیکھ بھال میں مصروف مائیں بھی شامل ہیں۔ رنگ برنگ کڑھائی والے نمونوں سے سجے تہوار وں کے ملبوسات زیبِ تن کیے ، چاندی کے زیورات سے سجے یہ لوگ ، اس سٹیج پر اپنی قابلِ فخر قومیتی ثقافت پیش کرتے ہیں۔
ماضی میں چھیانگ دونگ نان ،گوئے جو کی غربت کے خاتمے کی جنگ کا ایک اہم محاذ تھا۔ پہاڑوں کے باعث آمد و رفت کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے اور کئی نسلوں سے منتقل ہونے والی مہارتیں، مقامی دیہات تک ہی محدود رہ گئی تھیں۔ میاؤ کڑھائی، باتک اور چاندی کا کام روایتی دستکاریوں سے کہیں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، ہر قومیتی لباس تاریخ کی غیر تحریر شدہ کتاب ہے، جس میں پچھلی نسلوں کی زندگیوں کا ریکارڈ اور لوگوں کی بہتر زندگی کی امیدیں سموئی ہوتی ہیں۔
جولائی 2024 میں، دیہاتیوں کو اپنے تہواروں کے ملبوسات کو نمائش کا موقع دینے کی امید میں، میاؤ کے نوجوان گو آکسین نے اپنے آبائی گاؤں میں ایک رن وے شو منعقد کیا۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شرکت کے لیے سائن اپ کرنے لگے اور ان کی تعداد اتنی ہوگئی کہ ایک یا دودن میں سب کو موقع نہیں دیا جاسکتا تھا ۔ یہاں سے"ویلیج ٹی" کا آغاز ہوا جو کہ آہستہ آہستہ اس خطے کی ثقافتی شناخت بنا اور آج یہ دیہات سے باہر نکل کر چائنا فیشن ویک، لندن فیشن ویک، اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کی کانفرنس اور نیوزی لینڈ فیشن ویک جیسے بین الاقوامی سٹیجز تک پہنچ چکا ہے ۔
غیر مادی ثقافتی ورثے کی شیو لی تھاو مارکیٹ نے ،ماضی میں نظر انداز کی گئی ان دستکاریوں کو وسیع مارکیٹ میں ایک جگہ فراہم کی ہے۔ یہاں 1,000 سے زائد سٹالز موجود ہیں اور کڑھائی سمیت دیگر دستکاریاں اب پہلے سے زیادہ وسیع مارکیٹس تک پہنچ رہی ہیں۔ "ویلیج ٹی"، ثقافت کی نمائش اور تشہیر پر توجہ دیتا ہے جب کہ شیو لی تھاو مارکیٹ ،کاروباری مواقع اور فروخت کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس طرح، رن وے اور مارکیٹ نے مل کر روایتی دستکاری کو جدید زندگی کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔
2026 تک ، "ویلیج ٹی" نے 1,000 سے زیادہ پرفارمنسز کا انعقاد کیا، جس میں آس پاس کے متعدد دیہات سے 80,000 سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا ہے اور ہزاروں روایتی ملبوسات سمیت غیر مادی ثقافتی ورثے کی دیگر مصنوعات کی نمائش کی گئی ، 900,000 سے زیادہ سیاحوں کی آمد ہوئی جو کہ آس پاس کے 200 سے زائد دیہات تک پہنچے ۔"ویلیج ٹی" نے ان دیہات میں ہوم سٹے، ریستوران، ثقافتی وتخلیقی مصنوعات اور مخصوص مقامی اشیا کو یکجا کیا ہے، جس سے 3,000 سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ "ویلیج ٹی + شیو لی تھاؤ مارکیٹ" ماڈل کے ذریعے، مقامی باشندوں کی اوسط سالانہ آمدن 12,000 یوان فی کس سے زائد ہو چکی ہے، جو کہ 40 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔
آج چھیانگ دونگ نان میں قدیم سوئیاں اور دھاگے ، پرندوں اور تتلیوں کے نمونے کاڑھ رہے ہیں اور زندگی کے ایک نئے انداز کو بُن رہے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے سربراہ،چینی صدر شی جن پھنگ نے گوئے جو کے معائنہ جاتی دورے کے دوران تاکید کی کہ بڑی قومیتی اقلیتوں والے علاقوں کو اپنی منفرد ثقافتوں کا تحفظ کرنا چاہیے اور ثقافت و سیاحت کی انضمام کے ذریعے انہیں نمایاں کرنا چاہیے۔
پہاڑوں سے عالمی سٹیج تک ، "ویلیج ٹی" کی کہانی چین کے غربت کو ختم کرنے کے منفرد راستے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ جب پچھلی نسلوں کی منتقل کی گئی ثقافت ایک نئی صنعت بن جاتی ہے اور جب گاؤں کے عام لوگ ترقی کے محرک بن جاتے ہیں، تو پہاڑوں کے دوردراز حصوں میں آباد دیہات بھی ایک وسیع تر دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔



