19 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026 میں پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ چین میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں مکمل کرنے کے موقع پر پاکستان کے سابق سفیر خلیل ہاشمی نے پیپلز ڈیلی آن لائن کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے دونوں ممالک کی دوستی، دوطرفہ تعاون اور مستقبل کے امکانات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
''چین میں گزارے گئے تقریباً 34 ماہ میری زندگی کا نہایت مصروف اور بامقصد دور تھا۔"
پاک چین تعلقات کی بنیاد کے بارے میں خلیل ہاشمی نے تین اہم اصولوں کا ذکر کیا: باہمی اعتماد، باہمی مدد اور باہمی عزت۔ ان کے مطابق، گزشتہ 75 برسوں میں ان اصولوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ باہمی اعتماد مستقبل میں بھی اس دوستی کا مضبوط ستون رہے گا۔
چین میں اپنے قیام کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں چین کے متعدد صوبوں اور علاقوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ان کے لیے سب سے خوشگوار تجربہ چینی عوام کی جانب سے ملنے والی محبت تھی۔
"چین کے دور دراز علاقوں میں بھی جب میں اپنا تعارف پاکستانی کے طور پر کرواتا تھا تو ہمارے چینی بھائی بہن اکثر ایک لفظ کہتے تھے، 'با تھئیے' یعنی آہنی بھائی۔"
انہوں نے کہا کہ یہ محبت ظاہر کرتی ہے کہ پاک چین دوستی صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کی گہری جڑیں دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں بھی ہیں۔
اپنے دورِ سفارت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون کو فروغ دینے کے لیے چھ سرمایہ کاری کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا، جن کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے میں چینی تجربات سے استفادہ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
عوامی اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا بھی ان کی ترجیحات میں شامل رہا۔ انہوں نے دیوارِ چین پر منعقد ہونے والے پاک -چین فیشن شو اور موسیقی کے پروگرام کو یادگار سرگرمیاں قرار دیا۔ خلیل ہاشمی نے ان تقریبات کے کامیاب انعقاد میں بیجنگ کے ضلع یان چھنگ اور چینی دوستوں کے بھرپور تعاون کو سراہا۔
سفارت خانے میں موجود تاریخی تصاویر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملاقاتوں کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کے مطابق، سربراہانِ مملکت کی ملاقاتیں دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال اور اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی قیادت کے خیالات اور پالیسیوں میں نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، جو عملی تعاون کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ تعاون کے نئے مرحلے میں زراعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت کو ایک انقلابی ٹیکنالوجی قرار دیتے ہوئے خلیل ہاشمی نے کہا کہ چین نے اس شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ان کے مطابق، تعلیم، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی میں تحقیق، نیز کاروبار اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں خاص طور پر ، پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں
انہوں نے مصنوعی ذہانت کے عالمی تعاون کی تنظیم میں پاکستان کی بانی رکن کی حیثیت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم کا ایک بنیادی مقصد ترقی پذیر ممالک کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور انہیں مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ثمرات سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
پاک- چین تعلقات کے مستقبل کے بارے میں خلیل ہاشمی نے کہا کہ گزشتہ 75 برس دونوں ممالک کے درمیان دوستی، تعاون، باہمی احترام اور اعتماد کے مضبوط رشتے کا واضح ثبوت ہیں۔
"مجھے یقین ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اور دوستی کا مستقبل شاندار ہے، تاہم اس کے لیے دونوں جانب سے مسلسل محنت اور کوششیں ضروری ہیں۔"



