• صفحہ اول>>چینی معاشرت

    کوئی بھی قومیتی گروپ پیچھے نہیں رہنا چاہیے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-10-19

    19 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)صوبہ یوننان کے شمال مغرب میں واقع نوجیانگ کے لیسو خوداختیار علاقے کے زیرِ انتظام، کاونٹی کی سطح کے چار علاقے ہیں جن میں ، لوشوئی شہر سمیت فوگونگ کاؤنٹی، گونگ شان دولونگ ، نوو خوداختیار کاؤنٹی اور لان پھنگ بائی اور پھومی خوداختیار کاؤنٹی شامل ہیں۔

    یہاں لیسو، نوو، دولونگ اور پھومی سمیت 22 اقلیتی گروہ آباد ہیں۔ نوجیانگ میں کسی بھی دوسرے خود اختیار علاقے کی نسبت سب سے زیادہ تعداد میں اقلیتی گروہ موجود ہیں اور نسبتاً کم آبادی والے گروہ بھی کافی تعداد میں آباد ہیں۔

    اس پریفیکچر کا 98 فی صد سے زائد حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے جس سے گہری کھائیوں اور بلند پہاڑوں کا ایک ایسا شاندار منظر نامہ تخلیق پایا ہے جس میں چار پہاڑی سلسلے ،تین دریاوں کو آغوش میں لیے ہوئے ہیں۔ ماضی میں اس علاقے کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ " دریائے نوجیانگ بہتا چلا جا رہا ہے اور واحد زپ لائن اس کے دونوں کناروں کو ملاتی ہے "۔ یہ جملہ اس علاقے کی روزمرہ زندگی اور کام کاج کے معمولات کا ایک واضح منظر پیش کرتا ہے۔

    سال 2007 میں ایک فوٹو گرافر نےیہاں کے دورے کے دوران ایک تصویر کھینچی جس میں ، فوگونگ کاونٹی کے قصبے ماجی کے گاوں ماجی می میں رہنے والی دو چھوٹی بہنیں، زپ لائن کے ذریعے دریا پار کر رہی تھیں۔ لیسو قومیت سے تعلق رکھنے والی یہ دونوں بہنیں ، یو چھون حوا اور یو ٹسائی مئے اپنے سکول جانے کے لیے روزانہ یہی طریقہ استعمال کرتی تھیں کیونکہ اس کے علاوہ دوسرے کنارے تک جانے کا کوئی اور راستہ یا طریقہ نہیں تھا۔

    مرکزی حکومت کی معاونت سے نو جیانگ کی مقامی حکومت نے دریائے نوجیانگ ، دریائے لانٹسانگ اور دریائے دو لونگ پر، زپ لائن کی جگہ پل بنانے کے لیے 2011 سے 2016 کے دوران ، دو مراحل پر مشتمل ایک منصوبے پر کام کیا۔ اس منصوبے کے تحت 42 زپ لائن پیئرز کی جگہ، دریا پار کرنے والے 36 پل تعمیر کیے گئے جس سے تینوں دریاؤں کے پار کی آبادیوں کو درپیش مشکلات میں بہت کمی آئی۔30دسمبر 2018 کو، یوننان ڈیلی پریس گروپ کی معاونت سے تعمیر کردہ چھیاوما پل، نو ماہ سے زائد عرصے کے تعمیراتی کام کے بعد مکمل ہوا جس سےماجیمی گاوں کے دیہاتی گروہ چھیاو ماگا والوں کا دریا پار کرنے کا دیرینہ مسئلہ حل ہو گیا۔

    اب تک ماجی ٹاون شپ میں 12 پل تعمیر کیے جا چکے ہیں اور سڑکیں، گاوں اور گھروں تک پہنچ رہی ہیں۔ آج یو چھون حوا، ایک ہیلتھ ورکر کے طور پر کام کر رہی ہے جب کہ ان کی بہن یو ٹسائی مئے، واپس اپنے آبائی علاقے میں جا کر ادرک کی طرح کی ایک مسالہ بوٹی ، ٹساو گوو کاشت کر کے اپنے خاندان کے لیے 20 ہزار یوآن (3 ہزار ڈالر) سالانہ کی اضافی آمدن حاصل کررہی ہیں۔

    گونگ شان کاونٹی کی دو لونگ جیانگ ٹاون شپ ، چین کی نسبتاً کم آبادی والی ، دو لونگ قومیت کی مرکزی بستی ہے ۔ انتہائی سخت موسم اور دیگر جغرافیائی مسائل کی وجہ سے یہ علاقہ یوننان ہی نہیں بلکہ چین کا سب سے غربت زدہ اور غیر ترقی یافتہ علاقہ تھا۔ 2014 کے آغاز میں جب، دو لونگ جیانگ ہائی وے پر گاولی گانگ پہاڑ کی سرنگ تکمیل کے قریب تھی تو ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین، چینی صدر شی جن پھنگ نے اہم ہدایات دیتے ہوئے دولونگ قومیت کے لوگوں کو 'غربت کم کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنے' کی ترغیب دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ جتنی جلدی ممکن ہو یہ لوگ دیگر قومیتی گروہوں کے ساتھ ایک 'معتدل خوشحال' زندگی گزاریں گے۔

    اسی سال اپریل میں یہ سرنگ عوام کے لیے کھول دی گئی اور یہاں کے لوگوں کے وہ سخت دن ختم ہوگئے کہ جب شدید برف باری کے بعد ان کا رابطہ پہاڑوں سے باہر کی دنیا سے کٹ جاتا تھا۔

    اگلے ہی سال 20 جنوری 2015 کو کھن منگ میں، گونگ شان کاونٹی کے سرکاری اہلکاروں اور مقامی افراد کے ساتھ کی جانی والی ایک ملاقات کے دوران ، شی جن پھنگ نے کہا کہ "ایک جامع معتدل خوشحال معاشرے کے قیام میں کوئی ایک قومیتی اقلیت بھی پیچھے نہیں رہنی چاہیے۔"

    2018 کے اختتام تک، دولونگ قومیتی گروہ مجموعی طور پر غربت کی حد سے باہر آچکا تھا ، غربت اور پسماندگی سے ایک معتدل خوشحالی تک، یہ ایک تاریخی تبدیلی تھی۔

    مئی 2022 میں ، دو لونگ جیانگ ٹاون شپ میں، چائنا سدرن پاور کے ذریعے چلنے والا بجلی کا 35 کلو واٹ کا انٹر کنکشن منصوبہ ، باضابطہ طور پر فعال ہوا جس نے اس علاقے سے بجلی کی غیر مستحکم ترسیل کا باب بند کردیا ۔ آج یہاں پر مہمان خانے اور ہوم سٹے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ہر سال ،بجلی کی مانگ میں ہونے والا اضافہ مقامی زندگی کی بہتری اور پیداواری طریقوں کی مسلسل ترقی کا واضح عکاس ہے۔

    دولونگ دست کاریوں میں ان کے مخصوص انداز کے کمبل کو امتیازی حیثیت حاصل ہے ۔ دی جینگ دانگ گاوں میں رہنے والی لی یو حووا نے ، ان کمبلوں کی بنائی اور پروسیسنگ کے لیے ایک اشتراکی ادارہ قائم کیا ہے۔ انہوں نے روایتی ہنر کو محفوظ رکھتے ہوئے سکارف اور بیگز جیسی ثقافتی اور تخلیقی مصنوعات تیار کرنے میں گاؤں کی خواتین کو رہنمائی مہیا کی ہے اور یہ اشیا سیاحوں میں بہت مقبول ہوئی ہیں۔

    2025 میں ، دولونگ جیانگ میں فی کس کل آمدن ، 20,425 یوآن تک ہوگئی ۔یہ سال بہ سال 1.02 فیصد کا اضافہ ہے جو کہ اس بات کا مظہر ہے کہ لوگوں کی فلاح و بہبود میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

    اپریل 2019 میں، شی جن پھنگ نے گونگ شان کاؤنٹی کے دولونگ جیانگ ٹاؤن شپ کے رہائشیوں کے نام خط میں ، دولونگ قومیتی گروہ کو غربت سے مکمل طور پر چھٹکارا پانے پر مبارک باد دی نیز ایک خوشحال اور بہتر زندگی کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی ۔انہوں نے لکھا کہ ، "غربت کا خاتمہ محض پہلا قدم ہے؛ بہتر دن آنے ابھی باقی ہیں"۔

    ویڈیوز

    زبان