• صفحہ اول>>چینی معاشرت

    زرد ریت سے " نیلے سمندر" تک : ٹیکنالوجی جو، کھو بو چھی میں سبز تبدیلی کی قوت بن گئی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-10-19

    19 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)شمالی چین کے اندرون منگولیا کے شہر ، اوردوس کی کاونٹی دالاد میں تاحدِ نگاہ ،نیلے سولر پینلز کی قطاریں پھیلی ہوئی ہیں۔ پینلز کے نیچے پروان چڑھتی صحرائی نباتات ، ریت کے پھیلاو کو روکنے میں مدد دے رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ یہاں دور دور تک صرف زرد ریت پھیلی ہوئی تھی لیکن آج یہ صحرا ، قابلِ تجدید توانائی، ماحولیاتی بحالی اور مقامی آبادیوں کی آمدنی میں اضافے کو یکجا کرنے والے ترقیاتی راستے پر گامزن ہے۔

    زرد ریت سے "نیلے سمندر" تک کی یہ تبدیلی ، ایک فرد یا کسی ایک عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی رہنمائی، تکنیکی جدت نیز بنیادی سطح کی مشترکہ صلاحیتوں اور عملی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ابتدائی طور پر، فوٹو وولٹک پاور سٹیشنز صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے لیکن جیسے جیسے ان منصوبوں میں پیش رفت ہوئی ،لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ پینلز صحرا کی آب و ہوا کو بہتر بنا سکتے ہیں اور نباتات کی بحالی کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔

    دالاد کاونٹی کے فوٹو وولٹک پاور سٹیشن کے سربراہ ، سوئی لی من نے سرکتی ہوئی ریت میں کھمبے نصب کرنے اور ہوا کے کٹاو پر قابو پانے سے لے کر سمارٹ آپریشنز اور مرمت کے نظام تشکیل دینے تک کئی چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے ،اپنے روزانہ کے معائنے و مشاہدے کے دوران اس کا عملی ثبوت دیکھا ۔ مقامی کسان اور چرواہے سولر پینلز کے نیچے کی زمین پر کاشت کاری میں مصروف ہیں۔ آج وہ ، تندو تیز ہوا اور اڑتی ریت میں زندگی گزارنے کے دنوں کو پیچھے چھوڑ کر ماحولیاتی ترقی کے ذریعے پائیدار روزگار حاصل کر رہے ہیں۔

    چین کے صدر شی جن پھنگ نے "بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت، اعلیٰ معیار زندگی اور صحت مند ماحولیاتی نظام کی خصوصیات والی پائیدار ترقی کے ماڈل کی پیروی" کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ محض بجلی پیدا کرنے سے لے کر "شمسی توانائی + صحرا کے پھیلاو پر قابو + صنعت" کے مربوط ماڈل میں منتقلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ غربت میں کمی ،فطرت کو شکست دینے سے نہیں ، بلکہ انسان ،فطرت اور صنعتوں کے مابین ہم آہنگ بقائے باہمی کے لیے ٹیکنالوجی کو استعمال کرنےسے ممکن ہوگی ۔صحراؤں کو نخلستانوں میں تبدیل کرنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ کام کرتے ہوئے، چین کا صحرا کے پھیلاو پر قابو پانے کا تجربہ عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان