16 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)15 اکتوبر کو چین کی ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی میں، چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے سلسلے میں ، چین- پاکستان اقتصادی راہداری یونیورسٹیز کنسورشیم کے تبادلے و تعاون کے طریقہ کار کا چھٹا اجلاس منعقد ہوا۔ ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی ، چین کی ہائر ایجوکیشن ایسوسی ایشن اور پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اشتراک سے منعقدہ اس اجلاس میں، چین اور پاکستان کی 40 سے زائد جامعات اور تحقیقی اداروں کے 120 سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی اور مشترکہ سائنسی تحقیق، افرادی قوت کی تربیت اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا۔
افتتاحی تقریب میں پاکستان ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین نیاز احمد اختر، چین کے صوبے حیلونگ جیانگ کی عوامی حکومت کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل جاؤ رونگ گو، چین کی ہائر ایجوکیشن ایسوسی ایشن کے نائب صدر جانگ دا لیانگ اور ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی کے صدر یِن جِنگ وے سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ چین میں پاکستان کے سفیر سید علی اسد گیلانی اور چین کی وزارتِ تعلیم کے شعبہ بین الاقوامی تعاون کے نائب سربراہ لیو یونگ نے تقریب سے ویڈیو خطاب کیا۔

سی پیک یونیورسٹیز کنسورشیم کے چھٹے اجلاس کی افتتاحی تقریب کا منظر۔ تصویر: بشکریہ ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی
اس اجلاس میں ہونے والی اہم پیش رفت ، کنسورشیم کے تبادلہ و تعاون نظام کے تحت پہلی بار مخصوص شعبوں میں مشترکہ تحقیقی گروپس کا قیام تھا ۔ ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی اور پاکستان کی بحریہ یونیورسٹی کی قیادت میں بحری معلومات کے شعبے میں ایک مشترکہ تحقیقی گروپ تشکیل دیا گیا۔ اسی طرح چین کی جے جیانگ یونیورسٹی، نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی، پاکستان کی ملتان زرعی یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی پشاور کی قیادت میں زراعت، غذائی تحفظ اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک مشترکہ تحقیقی گروپ بھی قائم کیا گیا۔ ان دونوں گروپس کا مقصد باہمی دلچسپی کے اہم تحقیقی موضوعات پر چین اور پاکستان کی جامعات کے درمیان تعاون کے لیے نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔
سمندری معلومات کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو بھی مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ رواں سال، ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی کی جانب سے شروع کی گئی چائنا- پاکستان میرین انفارمیشن کانفرنس (CPMI) کی بنیاد پر ، کنسورشیم کے متعلقہ تعاون گروپ کو ایک ایسے اشتراکی نظام میں تبدیل کیا گیا ہے جو دونوں ممالک کی متعدد جامعات اور تحقیقی اداروں کو آپس میں منسلک کرتا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں تعاون کا دائرہ کار ،مشترکہ منصوبوں اور ماہرین کے تبادلوں سے بڑھ کر مشترکہ مشاہدات، ڈیٹا کے تبادلے، مشترکہ تحقیق و ترقی اور افرادی قوت کی تربیت تک وسیع ہو گیا ہے۔

ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی اور پاکستانی جامعات کے مابین تعلیمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب۔ تصویر: بشکریہ ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی
اجلاس میں، افرادی قوت کی تربیت کے حوالے سے پاکستان کے پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے سی پیک اعلیٰ سطحی تحقیقی دوروں کے پروگرام کا اعلان کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت پاکستانی طلبہ کو چین میں تحقیقی دوروں اور مشترکہ تعلیمی و تحقیقی تربیت کے باقاعدہ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی نے پاکستانی جامعات کے ساتھ تعلیمی تعاون کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔ اجلاس میں کنسورشیم کے تبادلہ و تعاون کے نظام میں شامل ہونے والی نئی رکن جامعات کی فہرست بھی جاری کی گئی۔
اجلاس میں ، سی پیک یونیورسٹیز کنسورشیم کے تبادلہ و تعاون کے نظام کی سالانہ ترقیاتی رپورٹ بھی جاری کی گئی۔ رپورٹ میں 2025 سے اب تک تعاون کے نیٹ ورک کی توسیع، افرادی قوت کی تربیت، مشترکہ سائنسی تحقیق اور ثقافتی و تعلیمی تبادلوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت، زراعت، کان کنی، سمندری معلومات اور صحتِ عامہ سمیت اہم شعبوں میں تعاون کے تجربات کا بھی احاطہ کیا گیا۔
جامعات کے تجربات کے تبادلے کے سیشن میں ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی، پیکنگ یونیورسٹی، جے جیانگ یونیورسٹی، ہانگ کانگ پولی ٹیکنک یونیورسٹی، بحریہ یونیورسٹی، ایئر یونیورسٹی اسلام آباد اور نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز (FAST-NUCES) کے سات نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے مشترکہ تعلیمی شعبوں کی ترقی، سائنسی تحقیق میں تعاون اور افرادی قوت کی مشترکہ تربیت کے حوالے سے اپنی جامعات کی کامیابیوں اور عملی تجربات کا تبادلہ کیا۔
اجلاس کے دوران چار متوازی فورمز بھی منعقد ہوئے، جن میں سمندری معلومات، مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی ترقی، جدید مواد اور ذہین مینوفیکچرنگ، جب کہ چوتھا فورم پاکستان اور چین نوجوانوں کے موضوع پر تھا۔ ان فورمز میں شریک ماہرین اور محققین نے متعلقہ شعبوں میں جدید تحقیقی رجحانات پر تبادلۂ خیال کیا اور مشترکہ سائنسی تحقیق، افرادی قوت کی تربیت اور جامعات نیز تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر گفتگو کی۔
واضح رہے کہ سی پیک یونیورسٹیز کنسورشیم کا قیام نومبر 2017 میں چین کی ہائر ایجوکیشن ایسوسی ایشن اور پاکستان ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مشترکہ کوششوں سے عمل میں آیا تھا۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کی جامعات کے مابین افرادی قوت کی تربیت، سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی کے عملی استعمال اور ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کو فروغ دینا ہے، تاکہ چین -پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر و ترقی کے لیے باصلاحیت افرادی قوت اور علمی و تحقیقی معاونت فراہم کی جا سکے۔



