روسی ذرائع کے مطابق، روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے 25 اکتوبر کو ایک انٹرویو میں کہا کہ روس 4 نومبر کے بعد روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
اوشاکوف نے کہا کہ مجوزہ سہ فریقی ملاقات ماہرین کی سطح پر ابتدائی رابطہ ہوگی، لہذا اس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہییں۔ یوکرین کے مسئلے پر امن معاہدے تک پہنچنے سے پہلے تمام فریقوں کو ابھی بہت کوششیں کرنا ہوں گی۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی اسی روز تصدیق کی کہ نومبر میں سہ فریقی تکنیکی سطح کے مذاکراتی اجلاس کا منصوبہ ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ علاقائی مسائل پر صرف رہنماؤں کی سطح پر بات ہو سکتی ہے اور یوکرین سرزمین کے بدلے دیگر شرائط قبول نہیں کرے گا۔
مقامی وقت کے مطابق25 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات "جلد" ہوں گے، تاہم انہوں نے کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔ ٹرمپ کے مطابق، ان کے خیال میں روس اور یوکرین دونوں معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
سہ فریقی مذاکرات کی بحالی قریب ہونے کے باوجود، روس اور یوکرین کے درمیان علاقائی اور دیگر بنیادی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مذاکرات کے نئے دور میں مختصر مدت کے اندر کسی بڑی پیش رفت کا امکان کم ہے۔



