
"ایکسپورٹ ٹو چائنا کیپیسٹی ڈیولپمنٹ رپورٹ "5 نومبر کو نویں ہونگ چھیاؤ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں جاری کی گئی۔ فورم کی اہم رپورٹس میں شامل یہ رپورٹ چینی مارکیٹ میں شراکت داری کے موضوع پر مرکوز ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ ممالک، بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو چین کے لیے اپنی برآمدی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران عالمی برآمدات میں چین کا حصہ مسلسل بڑھا۔ 2025 تک بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شریک ممالک چین کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرنے لگے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی درآمدات کا دائرہ صنعتی مصنوعات تک محدود رہنے کے بجائے وسیع اور متنوع ہو چکا ہے، جس میں صنعتی مصنوعات کے ساتھ توانائی، خام مال اور زرعی اجناس بھی شامل ہیں۔ اس دوران اعلیٰ معیار کی مصنوعات اور بنیادی اشیاء ، دونوں کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ چین کی وسیع مارکیٹ نہ صرف جدید صنعتی مصنوعات کی طلب پیدا کرتی ہے بلکہ قدرتی وسائل پر مبنی مصنوعات اور مخصوص زرعی اجناس کے لیے بھی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس سے مختلف ممالک کو اپنی منفرد صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے ترقی کے نئے راستے تلاش کرنے کا موقع ملتا ہے۔



