15 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن) چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے غیر ملکیوں کے داخلے اور اخراج کے انتظامی قوانین میں ترمیم کے نفاذ کے لیے ریاستی کونسل کے ایک حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں ۔ ریاستی کونسل کے فیصلے کے مطابق ،چین نے سائنس و ٹیکنالوجی کے پیشے سے متعلقہ نوجوانوں کے لیے ایک نئی ویزا کیٹیگری متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔
اس فیصلے میں بتایا گیاہے کہ ،چین اپنی ویزا کیٹیگریز میں ایک K ویزا شامل کررہا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ وہ نوجوان پروفیشنلز جو متعلقہ چینی حکام کی طرف سے طے کردہ اہلیت اور تقاضوں پر پورا اترتے ہوں اس ویزے کے لیے درخواست دینے اور دستاویزات جمع کروانے کے اہل ہوں گے ۔
نئے قواعد یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوں گے۔
متعلقہ حکام کے مطابق ، اس وقت موجود عام ویزے کی 12 کیٹیگریز کے مقابلے میں ، K ویزہ کے حامل افراد کو ملک میں داخلے کی اجازت (تعداد کے اعتبار سے) ، داخلے کے بعد وقت کی مخصوص قانونی حد اور قیام کی مدت کے لحاظ سے زیادہ سہولیات میسر ہوں گی ۔چین میں داخل ہونے کے بعد، اس ویزے کے حامل افراد کو تعلیم، ثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تبادلے کے ساتھ ساتھ متعلقہ کاروباری سرگرمیوں کی بھی اجازت ہو گی۔ K ویزہ کیٹیگری کی درخواست دینے والوں کے لیے عمر، تعلیمی پس منظر اور کام کے تجربے کے علاوہ ، کسی مقامی آجر یا ادارے کی طرف سے دعوت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی اور درخواست دینے کا عمل بھی زیادہ آسان ہوگا۔
چین کا نئی ویزہ کیٹگری متعارف کروانے کا یہ اعلان، ویزا قوانین کو آسان بنانے اور بین الاقوامی تبادلے کو بڑھانے کے لیے چین کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جولائی کے آخر تک، چین نے 75 ممالک کے ساتھ ویزا فری داخلے یا باہمی ویزا استثنا کے معاہدے کیے۔ یہ نرم پالیسیز ، خاص طور پر ویزا فری سفر کو بڑھانے اور بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔ نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن نے 2025 کی پہلی ششماہی میں چین آنے یاجانے کے 38.05 ملین ٹرپس رپورٹ کیے ہیں، یہ پچھلے سال کے مقابلے میں 30.2 فی صد کا اضافہ ہے۔ ان میں سے 13.64 ملین داخلے ، ویزا فری ہیں جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 53.9 فی صد زیادہ ہیں۔
