• صفحہ اول>>چین کے رنگ

    تبتی تہذیب کے مرکز شانان میں ،ثقافتی انضمام کے نشان

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-08-20

    چین کے شی زانگ خود اختیار علاقے کا اولین محل ، یونبولاکھانگ (تصویر: تسرنگ لمپر)

    چین کے شی زانگ خود اختیار علاقے کا اولین محل ، یونبولاکھانگ (تصویر: تسرنگ لمپر)

    20 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)شانان ،شی زانگ کا ثقافتی قلب سمجھا جانے والا شہر ہے۔ شانان کا مطلب ہے "کانگدیسا پہاڑوں کے جنوب میں"، یہاں سے کئی چیزوں کی پہل ہونے یا ابتدا کے آثار ملے ہیں ، مثلاً سب سے قدیم خانقاہ یہاں ہے ، بدھ مت کی پہلی عبادت گاہ یہاں ہے اور یہاں سے قدیم دور کا پتہ دیتی ابتدائی تحاریر بھی ملی ہیں۔

    لہاسا میں، تبتی شہنشاہ سونگٹسن گامپو کے حکومت قائم کرنے سے پہلے، تبتی بادشاہوں کی کئی نسلیں، تبتی تہذیب کے گہوارے شانان میں حکومت کرتی آئی تھیں۔اپنی بھرپور تاریخ کے ساتھ، شانان نے 1995 میں شی زانگ کا پہلا میوزیم کھولا۔ اس میوزیم میں رکھے گئے قیمتی نوادارت میں ، پانچویں /چھٹی صدی کی ایک چاندی کی پلیٹ جس پر سونے کی ملمع کاری ہے اور یونانی دیوتا ڈیونیسس کی تصویر کشی کی گئی ہےنیز ساسانی سلطنت(عیسوی 224-651) کا ایک چاندی کا سکہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ شانان میوزیم میں میں موجود یہ منفرد نوادرات مشرقی اور مغربی تہذیبوں کے مابین، غیر معمولی تعلقات کی داستان سناتی ہیں۔

    شی زانگ خود اختیار علاقے کے شہر شینان میں لگائے گئے یرلنگ تجارتی اجناس کے میلے میں ایک خاتون نیپالی اشیا دیکھ رہی ہیں۔ ( تصویر: یونگچن درولکر)

    شی زانگ خود اختیار علاقے کے شہر شینان میں لگائے گئے یرلنگ تجارتی اجناس کے میلے میں ایک خاتون نیپالی اشیا دیکھ رہی ہیں۔ ( تصویر: یونگچن درولکر)

    شانان میوزیم کی ڈائریکٹر دُرُلما کا کہنا ہے کہ، ، قدیم شاہراہِ ریشم پر ایشیا اور یورپ کو منسلک کرنے والے اہم مقام پر ،قدیم فارس (موجودہ ایران) کی ساسانی سلطنت قائم تھی ۔ شانان میں چاندی کے سکوں کی دریافت، اس علاقے کے وسط ایشیا کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ ،طویل مدتی تعلقات کو اجاگر کرتی ہے، جسے آج کے محققین "پلیٹو سلک روڈ" کہتے ہیں۔

    دُرُلما نے نشاندہی کی کہ میوزیم میں رکھے ہوئے بدھ مت کے مجسموں کے چہرے کے نقوش ، سرپوش اور لباس میں جنوبی ایشیا کا انداز جھلکتا ہے۔ تبتی تھانگکا مصوری میں نیپالی مصوری کے رنگ نظر آتے ہیں اور کھجور کے پتوں کے مسودے پر موجود تحریر،سنسکرت زبان میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تبتی ثقافت بنیادی طور پر ، کھلے پن اور انضمام سے تشکیل پائی ہے،اس پر مرکزی چین اور جنوبی ایشیا کی ثقافتوں کا بہت گہرا اثر رہا اور یہ ثقافتیں اس کی منفرد شناخت میں ضم ہوگئیں۔

    انتہائی بلندی پر واقع تبت کا ماحول سخت اور مشکل ہے، اس کے باوجود یہاں کے لوگوں نے آس پاس کی تہذیبوں کے ساتھ صدیوں پرانے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ انہوں نے سخت سردیوں اور برفانی طوفانوں سے بچنے کے لیے اپنے سفر کے اوقات متعین کیے اور آبی راستوں، پہاڑی گزرگاہوں اور چراگاہوں کے بارے میں اپنی وسیع معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت کے ایسے راستے بنائے جو اس سطح مرتفع کو دور دراز کی ثقافتوں سے جوڑتے ہیں۔

    شانان میں لگنے والے ،یرلنگ تجارتی اجناس کے میلے کو 44 سال ہو گئے ہیں اور یہ نہ صرف یہاں کے سالانہ کیلنڈر کا اہم ایونٹ ہے بلکہ تجارتی اور ثقافتی تبادلوں کا ایک موثر پلیٹ فارم نیز شی زانگ کی منفرد روایات اور طرز زندگی کو جاننے کا ایک دریچہ بھی ہے۔ گزشتہ سال، کاروباری لین دین کا حجم تقریباً 700 ملین یوان (97.71 ملین ڈالر) تھا، جو ان سرگرمیوں کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    ایک پاکستانی تاجر ، تجارتی اجناس کے میلےمیں لائی گئی اشیا کا سٹال ترتیب دے رہاہے۔ (تصویر:ؒ تسرنگ لمپر)

    ایک پاکستانی تاجر ، تجارتی اجناس کے میلےمیں لائی گئی اشیا کا سٹال ترتیب دے رہاہے۔ (تصویر:ؒ تسرنگ لمپر)

    آج، "تبتی تہذیب کا گہوارہ" ہونے کے ناطے، شانان ہمسایہ علاقوں کے ساتھ تجارت کو بڑھا رہا ہے اور خاص طور پر ہر موسم گرما میں ہونے والے سالانہ یرلنگ ثقافتی وسیاحتی میلے کے ذریعے تبتی ثقافت میں دلچسپی لینے والوں کی توجہ بھی حاصل کر رہاہے

    شانان لہاسا کی طرح کی بین الاقوامی شہرت نہیں رکھتا ہے اور اکثر سیاح اسے ایک قدیم دور کا ایک ایسا دروازہ کہتے ہیں کہ جہا ں سے آگے ، ثقافتی تبادلوں کا اثر اس خطہِ زمین میں سرایت کیا تھا ، بالکل ویسے ہی جیسے ہزاروں سال پرانا دریائے یرلنگ جو دریائے زانگ بو میں ضم ہو کر سمندر کی جانب بہتا ہے اسی طرح ثقافتی ملاپ کا یہ ورثہ بھی زندہ اور متحرک ہے۔

    چین کے جنوب مغرب میں واقع شی زانگ خود اختیار علاقے کے شہر شانان کا منظر ۔ (تصویر: تسرنگ لمپر)

    چین کے جنوب مغرب میں واقع شی زانگ خود اختیار علاقے کے شہر شانان کا منظر ۔ (تصویر: تسرنگ لمپر)

    ویڈیوز

    زبان