21 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)روایتی تبتی ملبوسات نے صدیوں کے ارتقا و ترقی کے بعد بھرپور انداز اور منفرد خصوصیات اپنائی ہیں۔
روایتی تبتی ملبوسات کئی اقسام اور انداز کے ہیں اور ان میں سے ، لھاسا کے ملبوسات اپنی لمبائی ، کھلی اور لمبی آستینوں ، شوخ رنگوں اور چمکدار آرائش کی وجہ سے منفرد اور نمایاں ہیں۔ یہ ملبوسات نہ صرف تبت کے لوگوں کی جمالیاتی حس کا اظہار ہیں بلکہ ان کے ماحول اور طرز زندگی سے منسلک ہیں۔ 2018 میں، لھاسا کے ملبوسات شی زانگ خود اختیارعلاقے کے غیر مادی ثقافتی ورثے میں شامل کیے گئے تھے۔
شولدو پال روایتی دستکاری سکول میں، لوسانگ منلم اپنے شاگردوں کو لہاسا ملبوسات تیار کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔ 1965 میں باشوئی کاؤنٹی میں پیدا ہونے والےلوسانگ 13 سال کے تھے جب انہوں نے سلائی کا کام سیکھنا شروع کیا۔ 1983 میں، وہ ملبوسات تیار کرنے کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لہاسا گئے ۔ تعلیم کے حصول کے بعد وہ ایک دستکاری سکول میں استاد بن گئے، جہاں انہیں تبت کے مختلف علاقوں کے ملبوسات کی خصوصیات جاننے اور انہیں بنانے کی مہارتیں سیکھنے کا موقع ملا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس دور میں ان ملبوسات کے انداز اور رنگوں میں بہت یکسانیت تھی۔ ملبوسات کے حوالے سے نت نئے تجربات نے انہیں تمام اقسام کے تبتی لباس تیار کرنے کا ماہر بنا دیا۔ 2019 میں، لوسانگ منلم کو لہاسا ملبوسات تیار کرنے کی تکنیک کا نمائندہ وارث قرار دیا گیا جب کہ 2022 میں، انہیں لہاسا کے فنون اور دستکاری کے ماسٹر کا خطاب بھی دیا گیا۔
گزشتہ 40 سالوں میں، لوسانگ منلم نے خود کو اس فن کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 60 سالہ لوسانگ نے ایک سو سے زائد شاگردوں کو اس فن کی تربیت دی ہے، اس کے علاوہ وہ تبتی لباس پر نصاب مرتب کرنے اور ڈیٹا بیس قائم کرنے میں بھی مصروف رہے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی سے، نوجوان ڈیزائنرز اب غیر مادی ثقافتی ورثے کو جدید جمالیات کے ساتھ ضم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔