• صفحہ اول>>چین کے رنگ

    ہورگوس، جہاں سے سرحد پار جانا اب روزمرہ معمول کا حصہ بن چکا ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-08-21

    بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز کے اندر سے چین-قازقستان کو منسلک کرنے والی راہداری ، ہورگوس کا منظر۔ (تصویر/وو جی ہنگ)

    بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز کے اندر سے چین-قازقستان کو منسلک کرنے والی راہداری ، ہورگوس کا منظر۔ (تصویر/وو جی ہنگ)

    21 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے قازق خود اختیار پریفیکچر ایلی میں قازقستان کی سرحد پر واقع ہورگوس، قدیم شاہراہِ ریشم کے شمالی راستے پر ایک اہم پڑاؤ تھا، اور اب یہ ایک ایسا دروازہ بن چکا ہے جو چین کو مغربی دنیا کے لیے کھولتا ہے۔

    2012 میں، سرحد کے دونوں طرف کے ملحقہ سرحدی علاقوں پر مشتمل ،ہورگوس بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز نے باضابطہ طور پر کام شروع کیا۔ یہ چین کا پہلا کراس بارڈر اکنامک زون ہے جو کسی دوسرے ملک کے ساتھ قائم کیا گیا۔ اس مقام کی سٹریٹجک اور ترجیحی پالیسیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، مرکز نے چین اور قازقستان کے درمیان تجارتی و ثقافتی تبادلے، اور عوامی روابط کی رفتار کو بڑحایا۔

    ہورگوس بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز دونوں جانب سے باہم منسلک ہے تاہم داخلے و خروج کے علیحدہ نظام برقرار ہیں۔ یہاں سے دونوں ممالک کے شہری اور دیگر علاقوں سے آنے والے مسافر ، بغیر ویزے کے صرف پاسپورٹ یا سرحدی پاس کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں۔

    ہورگوس کے عوامی ہسپتال کی طرف سے ہورگوس بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز کے اندر مفت کلینک ۔ (پیپلز ڈیلی/ہوان شیانگ)

    ہورگوس کے عوامی ہسپتال کی طرف سے ہورگوس بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز کے اندر مفت کلینک ۔ (پیپلز ڈیلی/ہوان شیانگ)

    لی ، ایک چینی ہیں جن کی تمام زندگی ہورگوس میں ہی گزری ہے اور وہ اکثر اس مرکز آتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ یہاں سے دوسرے ملک میں جانا اتنا آسان ہے ، دوسرے ملک جانا تو لگتا ہی نہیں ایسا لگتا ہے جیسے آپ قریب ہی کسی رشتے دار سے ملنےجا رہے ہوں ۔ مرکز کے اندر صرف 15 منٹ چلنے کے بعد چین-قازقستان کو منسلک کرنے والی راہداری تک پہنچ کر لوگ براہِ راست ، قازقستان میں داخل ہو جاتے ہیں، یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں ۔ یہاں اتنا کم وقت لگتا ہے کہ بہت سے سیاح تو اسے "ایک سیکنڈ کی سرحد ی گزرگاہ " کہتے ہیں۔

    آج، اسمیں 5,000 سے زیادہ دکانیں اور تقریباً 1,200 کاروبار ہیں ، 40 سے زائد ممالک سے 1,000 سے بھی زیادہ اقسام کی اشیا یہاں فروخت ہوتی ہیں، جن میں قازق شہد، کرغز ستان کی گرم اونی چادریں اور ازبکستان کے خشک میوہ جات بھی شامل ہیں۔ یہ مرکز یہ شمال مغربی چین میں سرحد پار سیاحت اور خریداری کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں سے چینی ساختہ آلات، فرنیچر، اور لباس وسطی و مغربی ایشیا، یورپ اور پھر اس سے بھی آگے بھیجا جاتا ہے ۔ اس سال، اس مرکز نے اب تک 6 ملین سے زیادہ داخلے اور خروج کا ریکارڈ قائم کیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 66 فیصد کا اضافہ ہے۔

    لوگ ہورگوس بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز میں داخل ہورہے ہیں۔ (تصویر/لی منگ)

    لوگ ہورگوس بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز میں داخل ہورہے ہیں۔ (تصویر/لی منگ)

    ہورگوس کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ چین اور قازقستان کے درمیان ویزا درکار نہیں ہے تو ہم لوگوں کے لیے ایک دوسرے کے ملک آنا جانا اتنا آسان ہوگیاہے کہ دوسرے ملک جانا ، 'گھر جانے' جیسا محسوس ہونے لگا ہے۔

    ہورگوس ای وو انٹرنیشل بزنس ٹریڈ مال میں، بین الاقوامی قازق-چینی لسانی کالج کے طلبہ چینی زبان خاص طو پر کاروباری اصطلاحات سیکھتے ہیں۔ رواں سال اپریل میں، چین کی (سنکیانگ) ہورگوس پائلٹ فری ٹریڈ زون میں پہلے گروپ کے تربیت یافتگان نے مقامی کاروباروں میں انٹرن شپ شروع کی ہے ساتھ ہی وہ چینی زبان میں سرحد پار ای کامرس اور بین الاقوامی تجارت بھی پڑھ رہے ہیں۔

    ایک اٹھارہ سالہ قازق طالبہ چیپا سووا روفینا ، یہاں چینی زبان اور لائیو سٹریمنگ کامرس سیکھ رہی ہیں ان کا کہناہے کہ چینی استاد سے انہوں نے ناظرین کے ساتھ بات چیت کرنے اور صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کا طریقہ سیکھا ہے اور پہلے کی نسبت اب وہ پورے اعتماد کے ساتھ چینی زبان میں بات کرتے ہوئے مختلف مصنوعات بیچ سکتی ہیں۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ وہ مزید چینی مصنوعات کو قازقستان میں اور قازق مصنوعات کو چین میں متعارف کروائیں گی۔

    ہورگوس بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز کے چینی پویلین میں ثقافتی تبادلے کے ایک پروگرام میں شریک نوجوان چینی اور قازق لڑکیاں۔ (تصویر/شوئی چنگ فان)

    ہورگوس بین الاقوامی سرحدی تعاون مرکز کے چینی پویلین میں ثقافتی تبادلے کے ایک پروگرام میں شریک نوجوان چینی اور قازق لڑکیاں۔ (تصویر/شوئی چنگ فان)

    یہاں ، ہورگوس عوامی ہسپتال کے زیر انتظام نیشنل گیٹ ہسپتال نے ایک فری کلینک بھی لگایا ۔ ایک قازق مریض رحیم جان، جو ایک طویل ورصے سے مائیگرین کے درد سے پریشان تھا یہاں آیا کیونکہ اس نے قازقستان میں اکثر لوگوں سے چینی طب اور اس کی افادیت کے بارے میں سنا تھا۔ فری کلینک میں ڈاکٹر لیو فی اور ان کی ٹیم مریضوں کا معائنہ کرتی ہے ، ڈاکٹر لیو نے تشخیص کے بعد رحیم کے لیے چینی طریقہِ علاج ،آکو پنکچر تجویز کیا۔ علاج کے بعد رحیم نے بتایا کہ وہ مطمئن ہے اور خود کو بہتر محسوس کر رہاہے

    ڈاکٹر لیو کا کہنا ہے کہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ قازق لوگ اپنی صحت اور معیارٰ زندگی بہتر بنانے کے لیے روایتی چینی طب کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ روایتی چینی طب زیادہ سے زیادہ لوگوں کی صحت میں بہتری لائے گی اور دوستی کا پل بنے گی۔

    حالیہ برسوں میں، ہورگوس نے اپنی بین الاقوامی طبی خدمات کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے، تجرباتی طور پر سرحد پار طبی انشورنس کاطریقہ کار اپنایا ہے نیز چینی اور غیر ملکی مریضوں کے لیے رسائی کو بڑھایا ہے۔ جولائی 2023 میں، ہورگوس پیپلز ہسپتال کو غیر ملکیوں کو طبی خدمات فراہم کرنے کا باضابطہ اختیار دیا گیا۔ رواں سال جنوری سے جون کے درمیان، ہسپتال نے 205 غیر ملکی مریضوں کا علاج کیا، 54 فری کلینکس لگائے اور 1,035 لوگوں کو مفت چیک اپ اور تشخیص فراہم کی۔

    ان اقدامات کا مقصد وسط ایشیا کے لیے طبی خدمات کا ایک بین الاقوامی مرکز بننا ہے۔

    ہورگوس میں، سرحدی تعاون کے مرکز سے لے کر پیشہ ورانہ تربیت اور بین الاقوامی طبی خدمات تک، "ایک سیکنڈ میں سرحد عبور کرنا" صرف ایک سہولت نہیں بلکہ چین اور قازقستان کی سرحد کے پار ، گہرے جذباتی تعلقات، قریبی دوستی، اور ایک مشترکہ کمیونٹی کا احساس بن چکا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان