وولی (بائیں جانب) اور لیو جنگ (دائیں جانب) فرسٹ ایڈ سی پی آر کا طریقہ کار سکھا رہے ہیں
21 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)صوبہ آنہوئی کے شہر فویانگ کی کاونٹی ٹائی حہ کے ایک مقامی پارک میں ہر ہفتے ،اتوار اور عوامی تعطیلات کے موقع پر ایک جوڑا ، بہت ہی غیر معمولی لیکن مفید سٹال لگاتا ہے۔ اس سٹال پر نہ تو کوئی کھلونے بیچے جاتے ہیں نہ ہی کھانے پینے کی اشیا بلکہ پلاسٹک کے انساان نما پتلوں کے ذریعے ، ابتدائی طبی امداد اور سی پی آر کا طریقہ سکھایا جاتاہے۔
یہ سٹال ،ٹائی حہ کاونٹی کے عوامی ہسپتال میں طبی کنسورشیم کے نائب سربراہ وو لی اور ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ نرس ،وولی کی بیوی لیو جنگ لگاتے ہیں۔اس جوڑے نے آٹھ سال سے زیادہ عرصے سے اپنا فارغ وقت اس "فرسٹ ایڈ سٹال" کے لیے وقف کیا ہوا ہے ساتھ ہی ساتھ وہ سکولز ، کمیونٹیز، اور سرکاری دفاتر کے لیے ایک رضاکار ٹیم کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔ اب تک انہوں نے 100,000 سے زیادہ لوگوں کو زندگی بچانے کے طریقے سکھائے ہیں۔
اس عوامی و سماجی خدمت کی وجہ ،آٹھ سال پہلے ان کی آنکھوں کے سامنے ہونے والا وہ حادثہ تھا جسے وہ آج تک نہیں بھول سکے ۔ وو لی بتاتے ہیں کہ آٹھ سال پہلے، ایک جوان ، 40 سالہ آدمی مچھلیاں پکڑتے ہوئے پانی میں گر گیا جسے باہر تو نکال لیا گیا لیکن وہاں پر کسی بھی شخص کو CPR کرنے کا علم نہیں تھا ، ان سب کی نظروں کے سامنے زندگی بچانے کے ابتدائی قیمتی منٹ ہاتھ سے نکل گئے ، جب تک ایمبولینس آئی تو سوائے ایک جوان لیکن بے جان وجود کو اٹھانے کے کچھ بھی نہیں کیا جا سکا۔ اتنے لوگ تھے ، جو سب صرف بے بسی سے ایک زندگی کو ختم ہوتے دیکھتے رہے ۔ بے بسی کا یہ احساس انہیں اندر تک جھنجوڑ گیا۔ ایمرجنسی کیئر میں بیس سال سے زیادہ کا تجربہ رکھنے والی ہیڈ نرس لیو جنگ کہتی ہیں کہ انہوں نے ابتدائی طبی امداد کے بارے میں لوگوں کی معلومات نہ ہونے کے باعث ایسے کئی سانحے دیکھے ہیں اور جب وو لی نے اس کے بارے میں انہیں بتایا تو وہ سمجھ گئیں کہ وہ کس جذباتی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔
(وو لی اور لیو جنگ لوگوں کے سامنے ابتدائی طبی امداد کےطریقہ کار کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں)
لیو کہتی ہیں کہ ہسپتال تک پہنچنے سے پہلے فرسٹ ایڈ کی معلومات ہونا علاج کا سب سے قیمتی وقت اور مرحلہ ہے ۔ ان میاں بیوی نے اپنے " فرسٹ ایڈ کلاس روم " کو ایک مصروف عوامی مقام پر لے جانا کا ارادہ کیا اور گرمیوں میں ایک چھٹی کے دن شام میں شائنگ ریور نیشنل ویٹ لینڈ پارک پہنچ گئے کیونکہ ویک اینڈ پر یہاں بڑی تعداد میں لوگ آتے تھے۔ لیکن ان کا یہ پہلا تجربہ بےحد مایوس کن رہا ، کوئی بھی ان کے پاس نہ رکا۔ وو لی کہتے ہیں کہ ہم مایوس ہوگئے لیکن پھر میرے اندر سے آواز آئی کہ بولتے رہو ، کوئی نہ کوئی سنے گا اور کوئی ایک بھی اگر یہ مہارت سیکھ گیا تو کسی دن وہ کسی کی زندگی بچائے گا،ایک ایک زندگی قیمتی ہے۔ بس یہی سوچ کر ہم نے ہار نہیں مانی اور پھر بارش ہو یا دھوپ، ہر ہفتے آتے رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگ رکنے لگے، پھر مشق کرنے لگے اور اب تو جب ہم آتے ہیں تو لوگوں کی ایک قطار ہوتی ہے جو سیکھنے اور مشق کرنے کی منتظر ہوتی ہے۔
زندگیاں بچانے کے اس مشن میں ان کی یہ محنت رنگ لائی اور پچھلے آٹھ سالوں میں، ان سے سیکھے ہوئے لوگوں نے ہنگامی صورتٰحال میں ، پہلے چند قیمتی لمحات کو ضائع نہیں جانے دیا ۔ 2021 میں، تربیت یافتہ کیان شینگ نے ایک تفریح گاہ میں ،پانی میں ڈوبتے ہوئے بچے کو بچایا۔ 2023 میں، جو فی نے اس وقت ایک راہ گیر کو سی پی آر دیاجب وہ دل کا دورہ پڑنے سے راستے ہی میں گر پڑا تھا۔ 2024 میں، تربیت یافتہ شی ہاؤ نے ایک باسکٹ بال کورٹ میں کھیل کے دوران CPR سے ایک جان بچائی۔ ایک شخص نے اس وقت اپنی اس تربیت کا استعمال کیا جب ایک بچے کے حلق میں ٹافی پھنس گئی اور اس کی سانس رکنے لگی جب کہ اس کے اردگرد موجود افراد میں کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس بچے کو کیا ہورہا ہے۔
ان کی کوششیں اب "روڈ ایجوکیشن" سے آگے بڑھ چکی ہیں۔ٹائی حہ کاؤنٹی کے عوامی اسپتال کی معاونت سے 2017 میں اس جوڑے نے "ٹائی حہ کاؤنٹی پلاٹینم ٹین منٹس سیلف -اینڈ میوچوئل- ریسکیو ایسوسی ایشن' قائم کی، جو بڑی حد تک ایمرجنسی میڈیکل پروفیشنلز پر مشتمل ہے۔ 2019 میں، ٹائی حہ کاؤنٹی کے عوامی ہسپتال نے کاؤنٹی کا عوامی فرسٹ ایڈ ٹریننگ سینٹر قائم کیا جس میں وو اور لیو کو سرپرست تعینات کیا گیا۔ اس سینٹر نے قیام کے بعد سے اب تک 20 فرسٹ ایڈ ٹریننگ پروگرامز کا انعقاد کیا، جس میں 1,000 سے زیادہ شرکا کو باضابطہ جانچ کے بعد سند دی گئی ۔ حالیہ برسوں میں، انہوں نے اسکولز، کمیونٹیز، حکومتی اور کاروباری اداروں میں 300 سے زیادہ ایونٹس کا انعقاد کیا ہے۔
لیو کہتے ہیں کہ ہم دونوں اکیلے اتنا ہی کر سکتے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی خواہش ہے کہ مزید لوگ فرسٹ ایڈ کی معلومات آگے پہنچانے کی کوششوں میں شامل ہوں کیونکہ ہر شخص جسے ہم سکھاتے ہیں، پورے معاشرے کے لیے ایک اور حفاظتی مددگار بنتا اور بناسکتا ہے۔