• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    تحقیقات کے بعد ، چاند کے بیسن کی تشکیل کے دور کی مدت میں ترمیم

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-08-22
    تحقیقات کے بعد ، چاند کے بیسن کی تشکیل کے دور کی مدت میں ترمیم
    24 ستمبر 2024. چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک محقق چین کی قومی فلکیاتی مشاہدہ گاہ (CAS) میں چانگ عہ -6 مشن کے ذریعے حاصل کیےگئے چاند کے نمونے دکھا رہا ہے (شنہوا)

    22 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چانگ عہ -6 مشن کے ذریعے حاصل کردہ چاند کے نمونوں کے مطالعے سے محققین نے اپالو بیسن کی تشکیل کا وقت 4.16 ارب سال پہلے کا متعین کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اجرام فلکی کی شدید بمباری کا آغاز کم از کم 100 ملین سال پہلے ہوا تھا۔ یہ دریافت چاند اور شمسی نظام کے ابتدائی متحرک ارتقا کے بارے میں نئی بصیرت فراہم کرتی ہے۔

    ماضی بعید میں ہونے والی یہ شدید بمباری اس دور کو ظاہر کرتی ہے جس میں چھوٹے اجرامِ فلکی کے پھٹنے سے ہونے والی شدید بمباری کے اثرات سے چاند پر غیر معمولی بڑے اور گہرے گڑھے بنے تھے ۔ ان غیر معمولی بڑے گڑھوں کو سائنسی اصطلاح میں "بیسن " کہاجاتا ہے۔

    جہاں سے چانگ عہ -6 مشن نے چاند کی مٹی کے نمونے لیے اس اپالو بیسن کا قطر تقریباً 540 کلومیٹر ہے۔ یہ چاند کے سب سے بڑے اور قدیم ساوتھ پول ایٹکن بیسن کے اندر سب سے بڑا گڑھا ہے جو ممکنہ طور پر شدید بمباری کے آغاز پر تشکیل پایا تھا۔ اس دریافت سے یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ چاند کے ابتدائی اثر کی شدت میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے ۔

    بدھ کے روز نیچر اسٹرانومی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے گوانگ جو انسٹی ٹیوٹ آف جیوکیمسٹری کے ماہر شو ای گانگ کی قیادت میں اس تحقیقاتی ٹیم نے 150 سے 300 مائیکرو میٹر سائز کے تین امپیکٹ- میلٹ ٹکڑوں کا معائنہ کیا۔ یہ ٹکڑے چاند کی ایک خاص قسم کی چٹان ہیں جو اثرات کے دوران پگھلنے والے مادے کے ٹھنڈا ہونے اور کرسٹلائزیشن کے ذریعے بنے ہیں اور انہیں چاند کے اثرات کے ریکارڈ کے لیے سب سے مثالی "جیولوجیکل کلاک" سمجھا جاتا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان