مشرقی چین کے صوبے جی جیانگ کی آن جی کاؤنٹی میں بانس کے جنگلات ۔ (تصویر/کھانگ فینگ ینگ)
26 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)مشرقی چین کے صوبے جی جیانگ کی آن جی کاؤنٹی میں 1.08 ملین مو (72,000 ہیکٹر) بانس کے جنگلات کے ساتھ، بانس کی صنعت پھل پھول رہی ہے۔ آن جی کے لوگوں نے جدت، تخلیق، اور مہارت کے ساتھ اس صنعت میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔
جی جیانگ فنگ حوئی بیمبو اینڈ ووڈ کارپوریشن لمیٹڈ کے تیار کردہ بانس کے لیمپ (تصویر/چھن ماؤ ینگ)
جانگ منگ جونگ، 1969 میں پیدا ہوئے،تکنیکی تعلیم کے سکینڈری سکول سےفارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ کاغذ کی ایک مقامی فیکٹری میں کام کرنے لگے لیکن جب وہ فیکٹری بند ہوئی تو پھر انہوں نے اپنا راستہ خود تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔
بانس طویل عرصے سے آن جی کی ایک روایتی صنعت رہا ہے۔ اس وقت جگہ جگہ بانس کے ریشوں کی فیکٹریاں تھیں اور بانس کے بچے کھچے ٹکڑے اور چھیلن کو ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ تھا۔جانگ نے اس مسئلے میں ایک کاروباری موقع دیکھا اور اس تمام فالتو مواد کو جمع کرکے اسے بائیو ماس فیول پیلٹس میں تبدیل کرنے کے لیے ایک کمپنی قائم کی۔ ان پیلٹس کو مقامی طور پر "فیول سٹکس" کہا جاتا تھا۔ ایک وقت میں یہ بڑی تعداد میں برآمد کیا جاتا تھا لیکن جب آن جی نے بانس کی ریشے کی فیکٹریوں کو بند کر دیا تو یہ سلسلہ موقوف ہوگیا۔
جانگ نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اسی بانس سے ایک اور راستے پر سفر شروع کیا اور جی جیانگ فنگ حوئی بیمبو اینڈ ووڈ کارپوریشن لمیٹڈ
کی بنیاد رکھی ۔انہوں نے کاغذ کی فیکٹری کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیمبو فائبر علیحدہ کرنے کے طریقے تلاش کرنا شروع کیے۔ ان کے پاس صرف تکنیکی سکول کی تعلیم تھی، مطلب انہیں اس حوالے سے خود سے مطالعہ و مشاہدہ بھی کرنا تھا اور مالی اعانت بھی درکار تھی۔ 2021 میں جانگ کی جانب سے بیمبو فائبر نکالنے کے ایک ماحول دوست طریقے اور نظام کا اختراعی پیٹنٹ ،چین کی قومی انتظامیہ برائے حقوقِ املاکِ دانش کے پاس جمع کروایا گیا۔ ٹیکنالوجی کے ماہر ین سے جانچ کے بعد انہیں مالی اعانت فراہم کی گئی اور ان کا یہ بڑا مسئلہ حل ہوا ۔ لیکن اس ایک چیلنج سے نپٹنے کے بعد ایک اور چیلنج سامنے آیا ، بیمبو فائبر علیحدہ کرنے کے لیے بانس کو پہلے کاغذ کی پتلی تہوں میں کاٹنا ضروری تھا۔ دستی پروسیسنگ وقت اور محنت طلب ہونے کے ساتھ ساتھ ہر مرتبہ ایک سی نہیں ہوتی تھی اور یہ ابتدائی ریشے کے لیے ناگزیر تھی ۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی جانگ نے ہمت نہیں ہاری اور ضرورت ایجاد کی ماں ہے، کے مقولے پر عمل کرتےہوئے 2022 میں ایک کٹنگ ڈیوائس کے لیے پیٹنٹ حاصل کیا، جس کے بعد 2023 میں بیمبو فائبر فلامنٹنگ ڈیوائس کے لیے ایک اور پیٹنٹ حاصل کیا ،یوں ان کی مستقل مزاجی، ذہانت اور اختراعی جذبے کی بدولت فیکٹری کا پہیہ چل پڑا ۔
تصویر میں بانسوں سے سجی ہوئی یہ عمارت ، صوبہِ جی جیانگ کی ڈسٹرکٹ آن جی میں ،جی جیانگ جوجنگ کلچر اینڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی ہے ۔ (تصویر/چن ماؤ ینگ)
جانگ نے گزشتہ سال ایک مکمل خودکار "بیمبو- ٹو- فائبر پروڈکشن لائن" شروع کی ۔ کچھ تبدیلیوں کے بعد ان مشینوں سے رواں سال بڑے پیمانے پر مستحکم پیداوار کا حصول ممکن ہوا اور اب تک بانس کے ریشے کی یومیہ 30 ٹن پیداوار حاصل کی گئی ہے۔ جانگ بتاتے ہیں کہ ڈھائی ٹن بانس سے 1 ٹن ریشہ نکالا جا سکتا ہے ۔پیداوار کی لاگت صرف 1,500 یوان ($208.80) فی ٹن ہے، جبکہ مارکیٹ کی قیمت 6,000 یوان ہے اور طلب، رسد سے کہیں زیادہ ہے۔اس سے بنائی جانے والی مصنوعات اس کی قیمت کو مزید بڑھاتی ہیں مثلاً ، بانس کے ریشے کا کپڑا موزوں کے لیے 18,000 یوان فی ٹن، کپڑوں کے لیے 120,000 یوان اور طبی ماسک کے لیے 200,000 یوان میں فروخت ہوتا ہے۔ اس عمل میں پانی کو دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے، کوئی فضلہ پیدا نہیں ہوتا، اور بانس کا ہر حصہ مکمل طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
جی جیانگ کی ایک سٹیشنری کمپنی نے بانس کو پنسل بنانے میں استعمال کیا ہے۔ جی جیانگ بنجوسٹیشنری کارپوریشن لمیٹڈ نے لکڑی کے متبادل کے طور پر بانس کی پنسلز تیار کیں۔ تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تحقیقاتی اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے، کمپنی نے اس سال مئی میں اپنی بانس کی پنسل متعارف کروائی ۔ کمپنی کی ان ماحول دوست پنسلز کو ایک جاپانی خریدار نے فوراً خرید لیا۔ بانس کی پنسل کے پیداواری عمل کے دوران نکلنے والا فاضل مواد صرف ایک منزل نیچے موجود آن جی جو دی نیو مٹیریل ٹیکنالوجی کارپوریشن لمیٹڈ ، خام مال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔اس صنعتی پارک میں، منزلیں ایک "اپ سٹریم ڈاؤن سٹریم چین " بناتی ہیں، جس سے آن جی میں دائری پیداوار کا پیمانہ بنتا ہے۔
حال ہی میں، بین الاقوامی بانس اور رتن تنظیم (INBAR) کے 30 سے زائد ماہرین اور حکومتی اہلکاروں نے نیپال اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے آ کر جی جیانگ جوگوان ایکولوجیکل ٹیکنالوجی کمپنی کا دورہ کیا اور بانس کی کونپلوں سے مشروب کشید کرنے کے بارے میں میں معلومات حاصل کیں۔انہیں بتایا گیا کہ کشید کے عمل کے بعد ،تخمیر کے باقیات کو مکمل طور پر دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ آرائشی فرنیچر کے تختے تیار کیے جا سکیں۔ چین کے بانس کےقومی تحقیقاتی مرکز کی جانب سے کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تختے فارمل ڈی ہائڈ سے پاک، پھپھوندی سے محفوظ، ہلکے اور مضبوط ہیں، جو عام چپکنے والے مٹیریل کا صرف نصف استعمال کرتے ہوئے 60 فیصد زیادہ مضبوط ہیں ۔