چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کے بائی دی ٹاون کی جنگ دہ کاونٹی کے گاوں گاوجیا میں، اپنے ہاتھوں سے لگائے گئے گری دار میوے شیانگ فے کے پھلوں کو دیکھتے ہوئے ،ہوانگ گو جونگ کا چہرہ کامیابی کی خوشی سے دمک رہا ہے۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/جانگ جن)
28 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)جنگ دہ کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ ہوانگ گو جونگ کے لیے شیانگ فے کے درخت ،ان کی زندگی کےان 12 یادگار برسوں کی نمائندگی کرتے ہیں جب انہوں نے اپنے آبائی علاقے کی ویران پہاڑیوں کو گری دار خشک میوے ، شیانگ فے کے سرسبز جنگلات میں تبدیل ہوتے دیکھا تھا۔
فنانس کی تعلیم حاصل کرنے والے ہوانگ نے ، اپنے آبائی علاقے کی خالی اجاڑ پہاڑیوں پر ایک ایسا سرسبز کاروبار شروع کیا جو ان کے لیے "سونے کا ڈھیر" بن گیا۔
چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کی جنگ دہ کاونٹی کے گاوں گاوجیا میں ،شیانگ فے کے جنگلات میں درختوں پر لگے پھل ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/جانگ جن)
شانگ فے کی کاشت کا خیال کیسے آیا ؟ اس بارے میں ہوانگ کا کہنا ہے کہ اسے ایک اتفاق کہا جا سکتاہے، جشنِ بہار کی ایک تقریب میں کسی نے شانگ فے کی کاشت کا ذکر کیا اور ازراہِ مذاق کہا کہ اس سے ہم بڑی رقم کما سکتے ہیں ۔ انہوں نے بھی اسے ایک ہلکی پھلکی بات کی طرح لیا اور ہاں میں ہاں ملائی لیکن ان کے دوست نے اس ہاں کو اقرار سمجھا اور جشنِ بہار کی تعطیلات کے فوراً بعد 20,000 پودے منگوا لیے۔
چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کے بائی دی ٹاون کی جنگ دہ کاونٹی کے گاوں گاوجیا میں ایک خاتون ، شیانگ فے کے جنگلات میں درختوں سے پھل چن رہی ہے۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/جانگ جن)
2013 میں، ہوانگ نے 400 مو (تقریباً 26.67 ہیکٹر) کی اس زمین کو کرائے پر لیا جہاں ماضی میں درختوں کی کٹائی کی جاتی تھی اور اب اسے دوبارہ سے جنگلات کے لیے مختص کیا گیا تھا ۔ ہوانگ بتاتے ہیں کہ اس وقت بائی دی قصبے کے یہ پہاڑ بالکل ویران تھے اور کسی قسم کے درخت کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔سب سے پہلے انہوں نے 40 مو کے رقبے پر پودے لگائے اور پھر یہ پودے رفتہ رفتہ ، اس قصبے سے آگے جینگ یانگ اور شنگ لونگ کے قصبوں تک پھیل گئے۔ آج، ہوانگ کے لگائے گئے شانگ فے کے جنگلات کا علاقہ 1,000 مو پر پھیلا ہوا ہے۔
چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کے بائی دی ٹاون کی جنگ دہ کاونٹی کے گاوں گاوجیا میں شانگ فے کے جنگلات کا فضائی منظر ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/جانگ جن)
شانگ فے کے پودے لگانے کے بعد کا وقت صبر آزما ہوتا ہے کیونکہ ان پودوں کو پھل دینے میں ایک دہائی کا عرصہ لگتا ہے ۔2023 میں ہوانگ کے لگائے گئے پودوں نے پہلی مرتبہ پھل دیئے اور اس سال 10,000 کلوگرام سے زیادہ کی پیداوار ہوئی۔ ہوانگ کے مطابق ، گزشتہ سال 25,000 کلوگرام سے زائد پیداوار حاصل ہوئی اور توقع ہے کہ رواں سال پیداوار ، 50,000 کلوگرام سے زائد ہوگی۔
بائی دی قصبے کے ایک اہلکارجیانگ جیان شنگ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ان ویران پہاڑیوں کو شانگ فے کے ہرے بھرے جنگلات میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ انسانوں کے ہاتھوں سے تخلیق کیے جانے والا یہ منظر نہ صرف "دو پہاڑوں" اور "شفاف پانی اور سرسبز پہاڑ قیمتی اثاثے ہیں"کے تصورات کی حقیقی تصویر ہے بلکہ یہ ایک سرسبز مستقبل کے لیے کی جانے والی کوششوں اور خواہشات کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔
چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کے بائی دی ٹاون کی جنگ دہ کاونٹی کے گاوں گاوجیا میں سرسبز درختوں سے ڈھکی پہاڑیوں کا فضائی منظر ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/جانگ جن)