عمر پاکستان میں قائم لوبان ورکشاپ کے ایک طالب علم ہیں۔پاکستان لوبان ورکشاپ تھیانجن ماڈرن ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل کالج اور پاکستان کے تعاون سے قائم کی گئی تھی، اور اس نے 2018 میں اپنے کام کا آغاز کیا۔اس ورکشاپ کا بنیادی کام الیکٹریکل آٹومیشن ٹیکنالوجی اور مکینیکل اور الیکٹریکل انٹیگریشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی موثر تعمیر ہے۔ یہ چین کے شہر تھیانجن کی جانب سے بیرون ملک قائم کردہ 24 لوبان ورکشاپس میں سے ایک ہے اور اس نے مقامی سطح پر ہزاروں نوجوانوں کو تربیت دی ہے۔
تھیانجن آنے کے بعد، عمر بین الاقوامی سطح پر سب سے نمایاں صنعتی آٹومیشن پروڈکشن لائنز، اسمارٹ اسٹوریج، روبوٹس اور دیگر تربیتی آلات سے روشناس ہوئے ہیں۔ عمر کا کہنا ہے کہ وہ چین میں جدید ٹیکنالوجی سیکھ کر پاکستان جائیں گے اور اپنے وطن کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت تبادلے اور انضمام نے چین اور پاکستان کے عوام کے لیے نہ صرف مارکیٹ میں زیادہ متنوع مصنوعات اور فیکٹریوں میں زیادہ موثر سامان فراہم کیا ہے، بلکہ اب "دنیا چھوٹی ہو گئی ہے اور ہمارا پلیٹ فارم مزید وسیع ہو گیا ہے"۔