• صفحہ اول>>سیاست

    چین کے بائیو سفیئر ریزروز ، عکاس ہیں کہ انسان اور فطرت ایک ساتھ ترقی کر سکتے ہیں، یونیسکو اہلکار

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-09-23

    23ستمبر 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے شہر ہانگ جو میں 22سے 25 ستمبر تک 5ویں ورلڈ بایوسفیئر ریزرو کانگریس کا انعقاد ہو رہا ہے ۔ اس موقعے پر UNESCO کے MAB پروگرام کے سیکرٹری انتونیو ایبریو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین کے بایوسفیئر ریزرو، انسان اور بایوسفیئر پروگرام (MAB) کے انسان اور فطرت کے ایک ساتھ ترقی کرنے کے تصور کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔

    انتونیو ایبریو نے تنوع کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے چین کےبھرپور عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر اس کانگریس کا انعقاد نہ صرف چین کی کامیابیوں کا اعتراف ہے، بلکہ یہ ایشیا-پیسیفک خطے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو منفرد ماحولیاتی نظاموں کا مسکن ہے اور پائیداری کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    انہوں نے ہانگجو میں تھیان موشان-چنگ لیانگ فینگ بایوسفیئر ریزرو کا حوالہ دیا کہ جہاں ماحولیاتی تحفظ کو سبز صنعتوں، ایکو ٹورازم اور تعلیم کے ساتھ کامیابی سے منسلک کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ ایک مثال ہے کہ جب ماحولیاتی نظام کی بحالی یا اس کاتحفظ کیا جائے ،تحفظ، تحقیق اور پائیدار ترقی کے مابین توازن قائم ہو تو مقامی معیشتیں کس طرح بہتر ہو تی ہیں اور یہی وہ تصور ہے جو یونیسکو عالمی سطح پر فروغ دیتا ہے۔ یہ مثال ہم عالمی نیٹ ورک کے دوسرے بایوسفیئر ریزروز کے ساتھ بھی بانٹ رہے ہیں۔

    اب تک، چین میں 34 نیچر ریزروز ، یونیسکو کے بایوسفیئر ریزروز کے طور پر مقرر کیے جا چکے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ایشیا میں اس نوعیت کے ریزروز کی تعداد کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے۔

    انتونیو ایبریو کی رائے میں یہ کانگریس ،جنوب-جنوب تعاون کو بایئو ڈائیورسٹی کے تحفظ کے لیےمضبوط کرنے کے حوالے سے "ایک سنگ میل" ہوگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ چین مالی مدد، تکنیکی مہارت، اور مکالمے کے ایسے مواقع فراہم کر کے شمولیتی شرکت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔

    UNESCO نے حیاتیاتی تنوع اور انسان – فطرت کے تعامل کی ایک پائیدار انتظامی حکمت عملی کو فروغ دینے کے لیے 1971 میں MAB پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ یہ پروگرام ورلڈ بایوسفیئر ریزرو نیٹ ورک (WNBR) کے ذریعے کام کرتا ہے، جس میں 136 ممالک کے 759 بایوسفیئر ریزرو شامل ہیں۔

    زبان