راوی: نی تینُن چومیچوئن (تھائی لینڈ)، استاد، تیانجن بوہائی ووکیشنل ٹیکنیکل کالج
29ستمبر 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)2013 میں، چینی صدر شی جن پھنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی تجویز پیش کی۔ اسی سال، مجھے تیانجن میں اپنی پڑھائی کے لیے چینی حکومت کی اسکالرشپ ملی۔
2016 میں جب میں نے اپنی گریجویشن مکمل کی تو میں نے چین میں رہنے کا فیصلہ کیا اور تیانجن بوہائی ووکیشنل ٹیکنیکل کالج میں تھائی لینڈ کے لوبان ورکشاپ پراجیکٹ پر کام شروع کیا۔
2016 میں، تھائی لینڈ کے پھرا ناکھون سی آیوتھیا ٹیکنیکل کالج اور تیانجن بوہائی ووکیشنل ٹیکنیکل کالج کے اشتراک سے تھائی لینڈ میں لو بان ورکشاپ کا قیام عمل میں آیا جو چین کی پہلی غیر ملکی لو بان ورکشاپ ہے۔ آج تک، اس ورکشاپ نے تھائی لینڈ میں 2,000 سے زیادہ تکنیکی مہارت کے حامل افراد کو تربیت دی ہے اور چین میں پڑھنے والے 460 سے زیادہ تھائی طلبہ کو معاونت فراہم کی ہے۔
میری ذمہ داریوں میں، تھائی لینڈ میں لو بان ورکشاپ کے روزمرہ امور کا انتطام، چینی اور تھائی فریقوں کے درمیان رابطہ و ہم آہنگی اور بین الاقوامی طلبہ کو چینی زبان پڑھانا شامل ہیں۔
میرے کام میں سب سے اطمینان بخش لمحہ ،تمام تر ترقی کا مشاہدہ کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو فروغ دینا ہے۔
تھائی لینڈ میں لوبان ورکشاپ نے "تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت" کا ایک ماڈل اپنایا ہےاور اس کے موجودہ چھ پروگرامز، تھائی وزارت تعلیم کے پیشہ ورانہ تعلیمی کمیشن کی جانچ اور تصدیق میں کامیاب قرار پائے ہیں کر لی ہے۔
لوبان ورکشاپ کے فارغ التحصیل طلبہ جو تیانجن بوہائی ووکیشنل ٹیکنیکل کالج میں بین الاقوامی طلبہ کی حیثیت سے پڑھتے ہیں، جاب مارکیٹ میں ان کی بے حد مانگ ہے، کیونکہ وہ جدید تکنیکی مہارتوں کے ساتھ ساتھ چینی زبان میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ تھائی لینڈ میں چینی فنڈڈ کمپنیز میں کام کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کی تنخواہ عام طور پر مقامی پیشہ ورانہ اسکول کے فارغ التحصیل طلبہ کی اوسط تنخواہ سے زیادہ ہوتی ہے، جو براہ راست ان طلبہ اور ان کے خاندان کی معاشی صورت حال میں بہتری کا باعث بنتی ہے اور یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو لوگوں کی زندگیوں کو کس طرح بہتر بناتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بین الاقوامی طالب علم، واسان بٹسادیوان جو ہایئر تھائی لینڈ میں کام کرتا ہے وہ لو بان کی اختراعی وتخلیقی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے لوبان ورکشاپ میں اپنی تعلیم کے دوران، بہت سی مہارتیں سیکھیں اور معلومات حاصل کیں جن میں پروگرام ایبل لاجک کنٹرولرز، روبوٹکس اور کمپیوٹر نیومیریکل کنٹرول ٹیکنالوجی شامل ہیں اور یہ تمام مہارتیں جدید صنعتوں کے لیے بہت اہم ہیں۔
لُوبان ورکشاپ نے تھائی لینڈ کی تکنیکی مہارت کی تربیت کے لیے ایک چینی حل فراہم کیا ہے۔ اس کی ایک مثال نئی توانائی کی گاڑیوں کی صنعت ہے، تھائی لینڈ اس میدان میں نو آموز ہے اور اس کے پاس کچھ زیادہ تدریسی تجربہ نہیں تھا۔ تھائی لینڈ لوبان ورکشاپ کے دوسرے مرحلے نے نئی توانائی کی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کا پروگرام تشکیل دیا۔ تیانجن بوہائی ووکیشنل ٹیکنیکل کالج نے اہم آلات فراہم کیے اور تھائی اساتذہ کی تربیت کے لیے چین میں سپانسر کیا، جس سے انہیں جدید علم اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے میں مدد ملی۔
بی آر آئی ، چین کی طرف سے شروع کیا گیا عالمی تبدیلی کا اقدام ہے اور اس نے میری زندگی کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ میری اپنے شوہر جیان پھنگ سے پہلی ملاقات لُوبان ورکشاپ میں ہوئی تھی اور آج ہم دونوں ساتھی ہیں ایک خاندان ہیں۔
گزشتہ 12 سالوں میں، میں نے یہاں تعلیم حاصل کی، یہاں رہی اور کام کیا لوبان ورکشاپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا۔ اگر مجھے اپنے تجربے کا خلاصہ ایک جملے میں کرنا ہو تو میں کہوں گی: چین اور تھائی لینڈ ایک خاندان ہیں!