6نومبر(پیپلز ڈیلی آن لائن)5 نومبر کو شنگھائی میں آٹھویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کا افتتاح ہوا۔چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو ، درآمدی تھیم پر مبنی دنیا میں قومی سطح کی پہلی نمائش ہے جو چینی صدر شی جن پھنگ کے ذاتی تصور کی مجسم صورت ہے۔ یہ نمائش رقبے اور شرکا کی تعداد، دونوں لحاظ سے ریکارڈ ساز ہے اور چین کے اپنی مارکیٹ کے کھلے پن کو مزید وسعت دینے اور اپنی ترقی کے مواقع دنیا کے ساتھ بانٹنے کی عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
CIIE کھلے پن کی علامت ہے
چین ہمیشہ سے ایسے اعلیٰ معیار کے حامل کھلے پن کی تائید کرتا آیا ہے جو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہو اور دنیا کے ساتھ انضمام کے لیے راہ ہموار کرے۔ CIIEاس پرعزم تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔
2018 میں پہلی چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپوکے افتتاح کےموقعے پر اپنے خطاب میں شی جن پھنگ نے کہا کہ یہ ایکسپو، چین کے لیے ایک "میجر پالیسی "اور ایک "اہم انیشئیٹو" ہے جس کے ذریعے چین ، اعلی سطحی کھلے پن کے نئے دور کی جانب قدم بڑھا رہا ہے اور دنیا کے لیے اپنی مارکیٹ کھولنے میں پہل کر رہا ہے۔بعد کی نمائشوں میں ان کی شمولیت نے ہمیشہ چین کو ایک وسیع اور خوش آئند مارکیٹ کے طور پر نمایاں کیا ہےاور تجارتی کشمکش سے اکتائی ہوئی دنیا تک یہ پیغام پہنچایاہے کہ دنیا کے لیے چین کے دروازے مزید کھلیں گے۔
چین کو ایک کھلی عالمی معیشت کے مضبوط حامی کے طور پر پیش کرنے والی اس ایکسپو نے منصفانہ پن اور تعاون کو یقینی بنانے میں چین کی ثابت قدمی کو نمایاں کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سات نمائشوں میں مجموعی طور پر 3,000 سے زائد نئی مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور سروسز پیش کی گئیں جس کے نتیجے میں متوقع لین دین کا حجم 500 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ رہا اور ان میں 23,000 غیر ملکی نمائش کنندگان نے شرکت کی۔امریکا، جاپان، جرمنی اور فرانس نمائشی پیمانے کے لحاظ سے سب سے اوپر رہے ، جبکہ سات سال سے اس نمائش میں امریکی کمپنیز کا نمائشی علاقہ سب سے بڑا ہے۔
صدر شی جن پھنگ نےپہلی CIIE کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ انسانی معاشرے کی ترقی کے لیے تمام ممالک کی جانب سےمسلسل کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ کھلےپن، تعاون اور باہمی ترقی کو فروغ دیا جا سکے، نہ کہ تنہائی، تصادم اور اجارہ داری کی طرف بڑھا جائے۔
چین ، ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں صارفین کے وسیع امکانات موجود ہیں اور ایک زیادہ جامع اور کثیرالجہت نظام کی تائید کرتے ہوئے، یہ عالمی ترقی کے لیے عمل انگیز ی کا کام کرتا ہے۔ CIIE اس تائید کی علامت ہے اور یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک سمیت تمام ممالک، تجارت اور سرمایہ کاری کے فوائد کا اشتراک کر سکتے ہیں۔
شی جن پھنگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں اقتصادی عالمگیریت بڑھتی جا رہی ہے ، جنگل کے قانون کا طرزِ عمل اپنانا اور صرف طاقتور ہی تمام فوائد حاصل کرے جیسی کوششیں صرف بند گلی میں لے جاتی ہیں جب کہ ہمہ گیر ترقی ہی یقینی طور پر آگے بڑھنے کا صحیح راستہ ہے۔
اپنے آغاز کے بعد سے ہی، CIIE نے افریقا، جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکا کے ممالک کو چین کے "ہائی ڈیمانڈ سیکٹرز" تک رسائی فراہم کی ہے،مثلاً چینی مارکیٹ میں روانڈا کی کافی نے بے پناہ ترقی اور مقبولیت حاصل کی ہےاور اس سےاس کی مقامی معیشتوں کو بھی فروغ ملا ہے اور ملازمتوں کے مواقع بھی مہیا ہوئے ہیں۔
چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپوکے اس سال کے ایڈیشن میں 4,108 غیر ملکی نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 600 سے بھی زیادہ ہیں ،نمائش کنندگان میں تقریباً 290 فورچون گلوبل 500 کمپنیز اور سرکردہ صنعتی ادارے شامل ہیں۔یہ اعدادو شمار عالمی تجارت میں موجود اقتصادی چیلنجز کے باوجود ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر اس ایکسپو کی مضبوط حیثیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ CIIE ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو چین کی وسیع مقامی مارکیٹ کی صلاحیت کو نمایاں کرتا ہے جبکہ باہمی فائدے کی بنیاد پر تعاون کے ذریعے ہمہ گیر عالمی شمولیت کے لیے چین کے عزم کو فروغ دیتا ہے۔
شی جن پھنگ نے 2019 میں دوسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کی افتتاحی تقریب میں کہا تھا کہ چینی مارکیٹ بہت بڑی ہے کہ آپ سب کو یہاں آنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس آپ کو دینے کے لیے کیا کچھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کھلے پن کو وسعت دیتے ہوئے دنیا کو مزید مارکیٹس، سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع فراہم کرے گا۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین عالمی سطح پر کھلے پن کا مضبوط حامی رہے گا ، عالمی ترقی کا ایک متوازن انجن بننے کا عمل جاری رکھے گا ، چین ایک بڑی مارکیٹ ہے جس میں بے شمار مواقع ہیں اور چین گلوبل گورننس ریفارمز کا ایک پرجوش حامی رہے گا۔
شی جن پھنگ کا کھلے پن کا تصور دنیا کے لیے ایک نعمت
چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو جیسے پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہوئے، چین کی وسیع مارکیٹ اور اعلیٰ معیار کا کھلا پن ، عالمی معیشت میں گرم جوشی کو مسلسل بڑھا رہا ہے نیز عالمی ترقی میں اعتماد اور تحریک فراہم کر رہا ہے۔یہ اعلیٰ معیار کا کھلا پن ایک فکری انقلاب ہے جو اعلیٰ ترقیاتی معیار کی ضرورت سے پیوستہ ہے ، ایک سٹریٹجک تبدیلی ہے جو عالمی نظام میں گہرے اور زیادہ معیاری انضمام کے عزم کی نمائندگی کرتی ہے۔ جون میں، عالمی اقتصادی فورم کے صدر بورج بریندے نے کہا تھا کہ آج دنیا کو درپیش چیلنجز کے لیے ممالک کو "رقابت سے تعاون اور انشقاق سے اشتراک کی طرف بڑھنا ہوگا۔"انہوں نے نشاندہی کی کہ اس حوالے سے چین طویل عرصے سے ایک اہم شراکت دار ہے۔ اس کا کاروباری ماحول، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، جدید پیداوار اور سبز جدت سمیت دیگر شعبے عالمی ترقی کے طاقتور محرک ہیں ۔
چین کی کھلے پن کے عزم کو عالمی اعتماد میں تبدیل کرنے کے لیے، شی جن پھنگ نے ہمیشہ اعلیٰ معیار کے کھلے پن کی تائید کی ہے تاکہ ایک غیر یقینی دنیا میں یقین کا ذریعہ فراہم کیا جاسکے ۔
جولائی میں جب شی جن پھنگ نے چین میں متعین ہونے والے 16 نئے سفرائے کرام کی اسناد وصول کیں، تو اس موقعے پر انہوں نے کہا کہ چین اپنے اعلیٰ معیار کی کھلے پن کو ثابت قدمی کے ساتھ فروغ دے گا اور اپنی بڑی مارکیٹ کے فوائد دوسروں کے ساتھ بھی بانٹے گا تاکہ اس کی ترقی دوسرے ممالک کے لیے نئے مواقع فراہم کرے اور عالمی اقتصادی ترقی میں زیادہ یقین اور اعتماد پیدا کرے۔
"چین میں سرمایہ کاری کرنا مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا ہے" یہ وہ نقطہ ہے جسے شی جن پھنگ نے متعدد مواقع پر دہرایا ہے۔ اکثر غیر ملکی سرمایہ کار اس یقین دہانی کا حوالہ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہمیشہ چین کی عملی مثالیں منسلک ہوتی ہیں، جن میں غیر ملکی کاروباروں کے ساتھ روابط مضبوط کرنا، ان کاروباروں کے لیے چین میں تجارت و سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور قانون کے مطابق ان کاروباروں کے جائز حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا شامل ہے۔
چین کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی منفی فہرست میں صرف 29 آئٹمز باقی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مینیو فیکچرنگ سیکٹر سےنہیں ہے۔ اس کے علاوہ، چین کو عالمی سطح پر دنیا کے سب سے محفوظ ممالک میں سے ایک تسلیم کیا گیا ہے اور یہ عالمی کاروباری کمیونٹی کو کاروبار کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے بیسویں اجلاس کے چوتھے کل رکنی سیشن میں منظور کیے گئے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کی سفارشات کے مطابق، اصلاحات و ترقی کے فروغ میں کھلے پن سے تحریک حاصل کرنی چاہیے ،دنیا کے باقی حصوں کے ساتھ مواقعوں کا اشتراک کرنا چاہیے اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
شی جن پھنگ نے حالیہ اپیک سی ای او سمٹ میں نشاندہی کی کہ چین، عالمی کاروباری برادری کے لیے مزید ترقی کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ چین اب صارفین اور درآمدات کے اعتبار سےدنیا کی دوسری سب سے بڑی مارکیٹ ہے، یہ قومی سطح پر بین الاقوامی درآمدی نمائش کی میزبانی کرنے والا واحد ترقی پذیر ملک ہے اور اپنی مارکیٹ کو مسلسل دنیا کے لیے کھول رہاہے۔
شی جن پھنگ کاکہنا تھا کہ ہم اعلیٰ سطحی کھلے پن کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں اور زیادہ کھلے پن اور رابطہ سازی کے ذریعے کامیابی کے حصول میں تمام فریقوں کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔