حال ہی میں لائی چھنگ ڈے نے کہا کہ "ایک ملک دو نظام کا تائیوان منصوبہ" تائیوان سماج کی سرخ لکیر ہے جسے چھونا منع ہے"۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بنیاد پر وہ تائیوان کی سیاسی جماعتوں، کارپوریٹ ادارے اور عوامی تنظیموں کے مین لینڈ کے ساتھ تبادلے اور سیاسی بات چیت پر کنٹرول کریں گے۔
اس پر تین دسمبر کو چین کی ریاستی کونسل کے دفتربرائے امور تائیوان کی ترجمان چانگ ہان نے کہا کہ لائی چھنگ ڈے نے بلاجواز تائیوان کی عوام کو دو کناروں کے مابین تبادلے کی آزادی پر پابندی لگائی، اور عوام کو بہتر زندگی کے حصول کے حق سے محروم کر دیا، جس سے ان کی "دہشتگردانہ سیاست اور آمریت" کی اصل پوری طرح عیاں ہو گئی ہے۔
چانگ ہان نے زور دیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات کےساتھ جڑا ہے۔ یہ ایک ریڈ لائن ہے جسے عبور کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر "تائیوان کی علیحدگی پسند" قوتوں نے اس ریڈ لائن کو عبور کرنے کی ہمت کی تو ہم ضرور سخت جوابی ردعمل کریں گے۔