
8دسمبر(پیپلز ڈیلی آن لائن)شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل ، نورلان یرمیک بائے یوو نے شنہوا کو دیئےگئے ایک تحریری انٹرویو میں کہا کہ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت پوری چینی سرزمین کی واحد قانونی حکومت ہے اور تائیوان چین کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے۔
جاپانی وزیر اعظم کے تائیوان سے متعلق انتہائی نامناسب بیان اور جاپان کی دائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے فوجی طاقت کو دوبارہ زندہ کرنے کے اشاروں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ جون 2002 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ایس سی او کے رکن ممالک کے سربراہان کی تاریخی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ خوفناک قتل عام واضح کرتا ہے کہ نازی ازم، فاشزم اور عسکریت پسندی کو برداشت کرنا، نسلی، قومی و مذہبی منافرت اور امتیاز کو فروغ دینا، بڑے نقصانات کا باعث بنتا ہے۔بیان میں اس بات پر بھی زوردیا گیا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کی فتح کی تاریخی حقیقت کو محفوظ رکھنا اور درست طور پر پیش کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ایسے المیے دہرائے نہ جائیں، امن و سلامتی برقرار رہے اور تعاون بڑھے۔
اس حوالے سے نورلان یرمیک بائے یوو نے ایس سی او تیانجن سمٹ 2025کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کے رہنماؤں نے اس سمٹ میں ایک اعلامیہ جاری کیاتھا جس میں انہوں نے اقوام متحدہ اور ایس سی او کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کے عالمی طور پر تسلیم شدہ دیگر اصول و معیار کے ساتھ مکمل وابستگی کی توثیق کی، جن میں قومی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا باہمی احترام نیز ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کا ذکر شامل ہے۔
نورلان یرمیک بائے یوو کا کہنا تھا کہ 2002 کے سینٹ پیٹرزبرگ اعلامیے میں یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ رکن ممالک پر یہ مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماضی اور مستقبل دونوں کے لیے ذمہ دار ہوں، یعنی آئندہ نسلوں کو جنگ کے عذاب سے بچائیں اور اس بات کے لیے ہر ممکن کوشش کریں کہ ایسے سانحے دوبارہ نہ ہوں۔