مقامی وقت کے مطابق 8 دسمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 80ویں اجلاس کے دوران "سمندر اور سمندری قانون" کے موضوع پر بات کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لے نے اپنے خطاب میں بحیرہ جنوبی چین سے متعلق کچھ ممالک کے غلط بیانات پر سخت تنبیہ کی ہے ۔
سن لے نے کہا کہ" بحیرہ جنوبی چین کی ثالثی کیس" ایک قانون کے بھیس میں سیاسی تماشا ہے، جو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، "اقوام متحدہ کا سمندر کے قانون سے متعلق کنونشن" کی خلاف ورزی ہے، اوربحیرہ جنوبی چین کے بنیادی حقائق سے انحراف کرتا ہے۔ اس "فیصلے" کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور یہ ناجائز ہے۔ چین اس "فیصلے" کو نہیں مانتا اور نہ ہی تسلیم کرتا ہے، اور اس "فیصلے" پر مبنی کسی بھی دعوے اور کارروائی کو قبول نہیں کرتا۔ کسی بھی صورت میں چین کا بحیرہ جنوبی چین میں اقتدار اعلی اور سمندری مفادات پر اس "فیصلے" کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ فلپائن کے "سمندری علاقوں کے قانون" نے چین کے حوانگ یئن جزیرہ اور نان شا جزائر کے زیادہ تر جزیروں، چٹانوں اور متعلقہ سمندری علاقوں کو غیر قانونی طور پر فلپائن کے سمندری علاقوں میں شامل کر دیا ہے، جو چین کی علاقائی خودمختاری اور سمندری مفادات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔