مقامی وقت کے مطابق 14 دسمبر 2025 کو سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ ای نے ریاض میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البداوی سے ملاقات کی۔
وانگ ای نے کہا کہ 2022 کے آخر میں صدر شی جن پھنگ اور جی سی سی ممالک کے رہنما پہلے چین-جی سی سی سربراہی اجلاس کے لیے ریاض میں جمع ہوئے، چین-جی سی سی تعلقات کو نئی سطح پر لے جایا گیا ، نئے امکانات کو کھو لا گیا اور چین-جی سی سی تعلقات کی ترقی کے لیے ایک نیا خاکہ تیار کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ چین جی سی سی کے ساتھ تزویراتی رابطوں کو مضبوط بنانے، مشترکہ مفادات کے تحفظ، پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال سے مشترکہ طور پر نمٹنے اور گلوبل ساؤتھ کے اتحاد اور خود انحصاری کے لیے نئی شراکتیں کرنے کے لیے تیار ہے۔
وانگ ای نے کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو مشترکہ طور پر فروغ دینے، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت دیگر شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو گہرا کرنے، عوامی اور ثقافتی تبادلوں کو مضبوط بنانے اور چین-جی سی سی دوستی کی رائے عامہ کی بنیاد کو مستحکم کرنے کے لیے جی سی سی ممالک کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ذمہ دار بڑے ملک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر، چین علاقائی ہاٹ سپاٹ کے حل کو فروغ دینے اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

اسی دن وانگ ای نے سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی۔
محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب دوطرفہ تعلقات کو اعلیٰ سطح پر لانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنےکو تیار ہے۔ سعودی عرب ہمیشہ ایک چین کے اصول پر کاربند ہے، اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے امور پر چین کے منصفانہ موقف کو سراہتا ہے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں پر چین کا شکریہ ادا کرتا ہے اور بین الاقوامی کثیرالجہتی امور میں چین کے ساتھ باقاعدہ رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔
وانگ ای نے کہا کہ چین اپنے قومی احیاء کے عمل میں سعودی عرب کا سب سے قابل اعتماد پارٹنر بننے کا خواہاں ہے۔ چین سعودی عرب کے ساتھ ہمہ جہت باہمی فائدہ مند تعاون کو مضبوط بنانے، توانائی کے روایتی تعاون کو مستحکم کرنے، ابھرتی ہوئی اور مستقبل کی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ شراکت داری کے نئے امکانات پیدا کرنے کو تیار ہے۔
