18دسمبر کو منعقدہ پریس بریفنگ میں چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے امریکا کی جانب سے تائیوان کو تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان کی فروخت کے اعلان پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔
ترجمان نے کہا کہ امریکا کا اسلحہ فروخت کرنے کا یہ منصوبہ ایک چین کے اصول اور چین۔امریکا تین مشترکہ اعلامیوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو چین کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور اس سے تائیوان کی "علیحدگی پسند" قوتوں کو نہایت غلط اور خطرناک پیغام پہنچتا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ چین اس اقدام کی سختی سے مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جزیرے کے اندر موجود "علیحدگی پسند" عناصر کی جانب سے "طاقت کے زور پر علیحدگی" یا "طاقت کے ذریعے وحدت کے خلاف مزاحمت" کی کوششیں کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گی اور یہ "علیحدگی پسندی" اپنے انجام سے نہیں بچ سکتی۔ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ امریکاکی جانب سے "تائیوان کو استعمال کر کے چین کو دبانے" کی حکمتِ عملی ہرگز کامیاب نہیں ہوگی۔