18 دسمبر کو چین کی ریاستی کونسل کے امور تائیوان دفتر کے ترجمان چن بن حوا نے تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے کہا کہ تائیوان کا معاملہ چین کے مرکزی مفادات کا مرکز ہے اور چین امریکہ تعلقات میں پہلی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت ایک چین کے اصول اور تین چین-امریکہ مشترکہ اعلامیوں ، بالخصوص"17 اگست" کے اعلامیے کی شقوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔چین اس کی سختی سے مخالفت اور مذمت کرتا ہے۔چین امریکہ سےمطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر "تائیوان کو مسلح کرنا" بند کرے، ایک چین کے اصول اور تین چین-امریکہ مشترکہ اعلامیوں کی پاسداری کرے اور امریکی رہنماؤں کے وعدوں پر عمل درآمد کرے۔تائیوان میں ڈی پی پی انتظامیہ کو سختی سے متنبہ کیا جاتا ہے کہ ملک کی وحدت کا رجحان روکا نہیں جا سکتا۔ اور اگر "تائیوان کی علیحدگی پسند "قوت سرخ لکیر عبور کرنے کی ہمت کرتی ہے تو اس کا سختی سے صحیح جواب دیا جائےگا۔