اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے قائم مقام چارج ڈی افیئرزسون لے نے 19 جنوری کو اقوام متحدہ میں انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام و سزا سے متعلق امور کے خصوصی نمائندوں کے اجلاس کی تیاری کمیٹی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ٹوکیو ٹرائل سمیت دوسری جنگِ عظیم کی فتح کے نتائج کا مشترکہ طور پر دفاع کرے اور جاپان کو دوبارہ عسکریت پسندی کے پرانے اور گمراہ کن راستے پر چلنے سے روکے۔
سون لے نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اس جرم کی قانونی تعریف پہلی مرتبہ نیورمبرگ بین الاقوامی فوجی عدالت اور مشرقِ بعید کی بین الاقوامی فوجی عدالت کے چارٹر میں سامنے آئی، جو انسانی ضمیر کی عکاسی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپانی عسکریت پسندی نے چین، ایشیا اور دنیا کے عوام کو ناقابلِ بیان مصائب سے دوچار کیا۔رواں برس مشرقِ بعید کی بین الاقوامی فوجی عدالت کے قیام کو 80 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس عدالت نے منظم انداز میں جاپانی عسکریت پسندی کے چین اور دیگر ایشیائی ممالک پر جارحیت اور پیسفک جنگ شروع کرنے جیسے جرائم کو بے نقاب کیا اور متعلقہ جنگی مجرموں کو امن کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر سزا سنائی۔
سون لے نے کہا کہ عالمی برادری کو ٹوکیو ٹرائل سمیت دوسری جنگِ عظیم کی فتح کے تمام نتائج کا دفاع کرنا چاہیے، بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کا تحفظ کرنا چاہیے اور جاپان کو دوبارہ عسکریت پسندی کے غلط راستے پر جانے سے روکنا چاہیے۔