20 جنوری کو ، نیشنل اکیڈمی آف گورننس میں صوبائی اور وزارتی سطح کے رہنماوں کے لیے ایک سٹڈی سیشن کا انعقاد ہوا۔ سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری، چینی صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین، شی جن پھنگ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی پی سی کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے چوتھے کل رکنی اجلاس کی روح کے مطالعے اور اس پر عمل درآمد میں مزید پیش رفت حاصل کرنے کی تاکید کی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی کمیٹی کی قیادت میں "پندہویں پانچ سالہ منصوبے" کے مضبوط آغاز کے لیے تمام امور میں بہتری لائی جائے۔
شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانچ سالہ منصوبوں کی تیاری اور ان پر عمل درآمد پارٹی کے ملک کو چلانے اور ریاستی نظم و نسق کا ایک اہم تجربہ ہے اور یہ چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ نظام کا ایک ایسا اہم سیاسی فائدہ بھی ہے جو پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پی سی کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے چوتھے کل رکنی اجلاس نے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران اقتصادی و سماجی ترقی کے لیے سٹریٹجک اہداف اور سمت کا تعین کیا ہے، جنہیں جامع، عمیق اور درست انداز میں سمجھنا ناگزیر ہے۔
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران ایک جدید صنعتی نظام کی تشکیل اور صنعتی نظام میں تیز رفتار ترقی ایک اہم سٹریٹجک مشن ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی معیشت کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے، کھپت اور سرمایہ کاری نیز طلب و رسد کے باہمی تعلق کو درست انداز میں سنبھالا جائے اور قومی معیشت کی گردش کے معیار و کارکردگی کو بہتر بنایا جائے، تاکہ مقامی طلب معاشی ترقی کی اصل محرک بن سکے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ معاشی اور سماجی ترقی ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور انہیں ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے سائنسی، جمہوری اور قانونی بنیادوں پر فیصلے کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی اور علاقائی سطح پر "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے" کے خاکوں اور خصوصی منصوبوں کی تیاری ٹھوس اور ذمہ دارانہ انداز میں کی جانی چاہیے۔
افتتاحی تقریب کی صدارت ،سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن اور وزیر اعظم لی چھیانگ نے کی۔