
23جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)22 جنوری کو منعقدہ نیوز بریفنگ میں چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے جواب میں کہا کہ ایک ذمہ دار بڑے ترقی پذیر ملک کے طور پر، چین کی موسمیاتی تبدیلی کے حل کی کوششیں نیز قابل تجدید توانائی کی عالمی ترقی اور اطلاق کو فروغ دینے کی کوششیں وسیع پیمانے پر تسلیم کی جاتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ چین نے بہت سی ونڈ ٹربائنز بنائی ہیں لیکن انہوں نے چین میں کوئی ونڈ فارم نہیں دیکھا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین ونڈ ٹربائنز "احمق" لوگوں کو بیچ رہا ہے۔
گو جیاکھون نے کہا کہ چین نے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے دنیا کا سب سے مکمل پالیسی نظام نیز قابل تجدید توانائی کا سب سے بڑا نظام تشکیل دیا ہے اور وہ سبز ترقی میں اپنی کامیابیاں دوسروں کے ساتھ بانٹتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ چین کی پون توانائی کی تنصیبی صلاحیت مسلسل پندرہ سال سے دنیا میں سر فہرست ہے۔ نومبر 2025 کے آخر تک، ملک میں ونڈ پاور کی تنصیبی صلاحیت 600 ملین کلوواٹ سے زائد ہو چکی تھی۔
2021-2025 کے دوران، چین کی برآمد کردہ ونڈ پاور اور فوٹو وولٹک مصنوعات نے دیگر ممالک میں کاربن کے اخراج کو مجموعی طور پر تقریباً 4.1 ارب ٹن کم کرنے میں مدد دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر گلوبل گرین اور کم کاربن منتقلی کو فروغ دینے اور ایک صاف اور خوبصورت دنیا بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔