• صفحہ اول>>سیاست

    چین کا غزہ میں جامع اور دیرپا جنگ بندی پر زور

    (CRI)2026-01-29

    اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے اٹھائیس جنوری کو مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی " اوپن ڈسکشن" سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں ایک جامع اور دیرپا جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

    فو چھونگ نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا بنیادی مرکز ہے اور عالمی برادری کو جلد از جلد مسئلہ فلسطین کے جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے مزید اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کو تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن فوجی حملے نہیں رکے اور شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے اردن کے مغربی کنارے کی صورتحال کشیدہ ہے۔ چین تمام متعلقہ فریقوں بالخصوص اسرائیل سے جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پابندی کرنے اور غزہ میں ایک جامع اور دیرپا جنگ بندی کے فروغ کا مطالبہ کرتا ہے۔

    فو چھونگ نے کہا کہ غزہ میں انسانی صورتحال بدستور نازک ہے اور انسانی امداد کی رسائی محدود ہے۔ چین نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، تمام سرحدی گزرگاہیں کھولے، اور انسانی ہمدردی کے ضمن میں آنے والی اشیاء کی رسائی پر عائد پابندیاں ختم کرے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے انتظامات کو "فلسطینی حکمرانی" کے اصول پر ہونا چاہیے، انہیں فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق ہو ناچاہیے، ان میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کے جائز خدشات کو مدنظر رکھنا چاہیے، اور انہیں "دو ریاستی حل" کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔چینی نمائندے نے کہا کہ چین غزہ کی جنگ کے بعد کی حکمرانی میں فلسطین کے بنیادی کردار کی حمایت جاری رکھے گا۔

    زبان