10فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)حالیہ دنوں لندن اسکول آف اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس میں منعقدہ چائنا ڈویلپمنٹ فورم 2026 کے موقع پر سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ مارک لوگن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ مغربی دنیا کے چین کے بارے میں تصورات اس حقیقت سے بہت مختلف ہیں جو انہوں نےگزشتہ دو دہائیوں میں اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ تجربات کے دوران محسوس کی ہے ، چین کی کئی مثبت ثقافتی اور سماجی خصوصیات ابھی تک مغرب میں مکمل طور پر تسلیم نہیں کی گئی ہیں۔
لوگن نے سیاست میں آنے سے پہلے کئی سال چین میں کام کیا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ چینی ثقافت سے متاثر رہے ہیں۔چینی معاشرے کے سب سے نمایاں پہلوؤں میں سے ایک اس کا عام لوگوں کے لیے کھلا پن اور دوستانہ رویہ ہے۔چینی لوگ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی ثقافت کا حصہ بنیں ، اسے سمجھیں اور دوسروں کے ساتھ اس کا تبادلہ کریں۔مارک لوگن نے نشاندہی کی کہ چین اور برطانیہ میں ایک دوسرے کے حوالے سے عوامی رائے میں واضح عدم توازن ہے۔ چین میں عام شخص بھی برطانیہ کے بارے میں بہت سی معلومات رکھتا ہے اور عمومی تاثر مثبت ہے تاہم دوسری طرف، برطانیہ میں چین کے بارے میں عوامی تاثر ایسا نہیں ہے۔ برطانوی رہنماوں کی سوشل میڈیا اور ثقافتی تعلقات کے ذریعے چین میں بڑھتی ہوئی موجودگی اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے حالیہ دورے نے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
عالمی منظرنامے کے تناظر میں بات کرتے ہوئے لوگن کی رائے ہے کہ چین کا عالمی امور میں کردار ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور عالمی امور میں چین کا اثرو رسوخ بڑھتا جائے گا۔
انہوں نے مغرب کے طویل مدتی مفروضے پر تنقید کی کہ دوسرے ممالک مغربی ماڈلز کی طرف بڑھیں گے۔ان کی رائے میں یہ مغرب کی متکبرانہ سوچ ہے کہ صرف چین اور دوسرے ممالک ان کے جیسے بنیں گے کیونکہ کچھ معاملات چین زیادہ بہتر یا مؤثر طریقے سے سر انجام دے رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی معاشرہ ، بہت مثبت، مستقبل بین اور توجہ حل پر مرکوز رکھنے والا معاشرہ ہے۔ مغربی معاشروں کو چین کی کامیابیوں کو زیادہ کھلے دل سے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔