• صفحہ اول>>سیاست

    عالمی برادری کو جاپان کے نئے عسکری رجحانات پر انتہائی چوکس رہنا چاہیے ، چینی وزارت خارجہ

    (CRI)2026-02-25

    25 فروری کو ، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے معمول کی پریس بریفنگ میں جاپان کی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے اس تجویز کی منظوری پر ردِعمل دیتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا ، جس میں جاپانی حکومت سے اسلحہ برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

    ماؤ نِنگ نے کہا کہ چین نے متعلقہ رپورٹس کا نوٹس لیا ہے اور اس معاملے پر سخت تشویش رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جارحیت کے تاریخی پس منظر کے باعث جاپان کی عسکری اور سلامتی پالیسیوں میں کسی بھی تبدیلی پر ایشیائی ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری ہمیشہ گہری نظر رکھتی ہے۔

    ترجمان نے نشاندہی کی کہ حالیہ برسوں میں جاپان نے اپنی سلامتی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ بعض جاپانی عہدیداروں کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی حمایت میں بیانات،"غیر جوہری تین اصول" میں ترمیم کی کوششیں اور اسلحہ برآمدات پر پابندیوں کے خاتمے کی پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ جاپان کی دائیں بازو کی قوتیں دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام اور اپنے داخلی قوانین کی قدغنوں سے نکل کر دوبارہ عسکریت کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔

    ماؤ نِنگ نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال پر انتہائی چوکس رہنا چاہیے، دوسری جنگِ عظیم کی فتح کے ثمرات اور بعد از جنگ بین الاقوامی نظام کا مشترکہ طور پر دفاع کرنا چاہیے، اور جاپان میں ابھرنے والے نئے عسکریت پسند رجحانات کی کسی بھی مہم جوئی کی سختی سے مزاحمت کرنی چاہیے۔

    زبان