• صفحہ اول>>سیاست

    امریکی تجارتی نمائندے کے بیان پر چین کا ردِعمل ، اپنے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا اعلان

    (CRI)2026-02-26

    حالیہ دنوں ، امریکی تجارتی نمائندے جیمسن گریئر نے کہا ہے کہ امریکہ چین کی جانب سے چین۔امریکہ پہلے مرحلے کے اقتصادی و تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کی صورتحال سے متعلق دفعہ 301 کے تحت تحقیقات کو جاری رکھے گا اور ممکنہ طور پر مزید محصولات عائد کر سکتا ہے۔

    اس پر چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے 25 فروری کو جاری بیان میں کہا کہ چین۔امریکہ پہلے مرحلے کا اقتصادی و تجارتی معاہدہ 2020 کے اوائل میں نافذ العمل ہوا تھا، جس کے بعد چین نے سنجیدگی سے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ ترجمان کے مطابق دانشورانہ املاک کے تحفظ کو مضبوط بنانے، مالیاتی اور زرعی منڈیوں کو مزید کھولنے سمیت متعدد شعبوں میں چین نے معاہدے کے تحت طے شدہ وعدے بروقت مکمل کیے، جبکہ تجارتی تعاون کے فروغ کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔

    چین امید کرتا ہے کہ امریکہ پہلے مرحلے کے معاہدے پر عمل درآمد کو معروضی اور معقول انداز میں دیکھے گا، ذمہ داریوں سے پہلو تہی یا الزام تراشی سے گریز کرے گا اور اس معاملے کو بنیاد بنا کر نئی کشیدگی پیدا نہیں کرے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ چین امریکہ کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے صدور کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کی رہنمائی میں اقتصادی و تجارتی مشاورت کے طریقہ کار کو مؤثر بنانا چاہتا ہے، مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے موجودہ اقتصادی و تجارتی اتفاق رائے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے اور مشترکہ مفادات کے مزید نکات تلاش کرنے کا خواہاں ہے، تاکہ تعلقات کو آگے کی سمت لے جایا جا سکے۔

    تاہم ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ متعلقہ تحقیقات پر اصرار کرتا ہے، حتیٰ کہ ان تحقیقات کو جواز بنا کر اضافی محصولات یا دیگر پابندیاں عائد کرتا ہے، تو چین اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

    زبان