
27 فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)27 فروری کو وزارتِ خارجہ کی پریس کانفرنس میں ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین اپنے ذرائع سے ثالثی کر رہا ہے اور دونوں فریقوں سے اپیل کرتا ہے وہ پرسکون رہیں اور ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
ماؤ ننگ نے کہا کہ چین اس صورتِ حال میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اور افغانستان مستقل ہمسایے ہیں جنہیں دور نہیں کیا جا سکتا اور یہ دونوں چین کے بھی ہمسایہ ممالک ہیں۔ ایک ہمسائے اور دوست کے طور پر، چین کو اس تنازع کے بڑھنے پر گہری تشویش ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کی شدت ماضی کی نسبت زیادہ ہے اور اگر لڑائی جاری رہی یا کشیدگی بڑھی تو دونوں جانب مزید نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چین ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور دونوں فریقوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور ضبط کا مظاہرہ کریں، اختلافات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مناسب طریقے سے حل کریں، جلد از جلد جنگ بندی تک پہنچیں اور انسانوں کو پیش آنے والے مصائب سے بچیں۔ یہ دونوں ممالک اور ان کے عوام کے بنیادی مفادات میں ہے اور علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے معاون ہے۔
ماؤ ننگ نے کہا کہ چین، پاکستان-افغانستان تنازع میں اپنے ذرائع سے ثالثی کر رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ چینی وزارت خارجہ اور پاکستان اور افغانستان میں چینی سفارت خانے دونوں ممالک کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور دونوں جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ چینی عملے، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔