3مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)2 مارچ کو چینی وزیر خارجہ وانگ ای نےایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی ۔وانگ ای نے کہا کہ چین، ایران کے ساتھ روایتی دوستی کی قدر کرتا ہے اور ایران کی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ میں اس کی حمایت کرتا ہے۔
سید عباس نے تازہ ترین علاقائی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران- امریکا مذاکرات کے دوران ، دوسری مرتبہ ایران کے خلاف جنگ شروع کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے حالیہ دور میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے تاہم امریکی اقدامات سےبین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور ایران کی "ریڈ لائن" کو پامال کیا گیا ہے ۔ایران کے پاس اپنے دفاع کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عوامی سطح پر منصفانہ اور درست پوزیشن اختیار کرنے پر چین کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ چین اس خطے میں کشیدگی بڑھنے کو روکنے میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
وانگ ای نے موجودہ صورتحال میں چین کے اصولی موقف کو دہرایا اور ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ میں اس کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین، امریکااور اسرائیل پر زور دیتا ہے کہ وہ فوراً فوجی کارروائیاں بند کریں، کشیدگی میں مزید اضافے سے اجتناب کریں اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں اس تنازع کو پھیلنے سے روکیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کو یقین ہے کہ موجودہ پیچیدہ صورتحال میں، ایران قومی اور سماجی استحکام برقرار رکھ سکتا ہے، اپنے ہمسایہ ممالک کے معقول خدشات پر توجہ دے گا اور ایران میں چینی شہریوں اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران، چینی عملے اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔