5مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)5 مارچ کو چینی وزیرِ اعظم لی چھیانگ نے چودھویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس میں حکومتی ورک رپورٹ پیش کی۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
اول: 2025 کے کام کا جائزہ
مجموعی ملکی پیداوار (GDP) میں 5 فیصد اضافہ
شہری علاقوں میں 1 کروڑ 26 لاکھ 70 ہزار نئی ملازمتیں
اناج کی پیداوار 1.43 کھرب جن تک پہنچ گئی۔( 2 جِن=1کلو)
نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی سالانہ پیداوار 1 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی
گزشتہ پانچ برسوں میں:
مجموعی ملکی پیداوار میں اوسط سالانہ اضافہ 5.4 فیصد
مینوفیکچرنگ کی ایڈڈ ویلیو کا حجم مسلسل 16 برس سے دنیا میں پہلے نمبر پر
شہری و دیہی باشندوں کی فی کس قابلِ تصرف آمدنی میں اوسط سالانہ اضافہ 5.4 فیصد
شہری علاقوں میں مجموعی طور پر 6 کروڑ سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں
دوم: پندرہویں پانچ سالہ منصوبےکے اہم اہداف اور بڑے کام
مجموعی ملکی پیداوار کی شرحِ نمو کو معقول حد میں برقرار رکھنا
سماجی تحقیق و ترقی کے اخراجات میں سالانہ 7 فیصد سے زیادہ اضافہ
کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں فی جی ڈی پی یونٹ مجموعی طور پر 17 فیصد کمی
ڈیجیٹل معیشت میں بنیادی صنعتوں کی اضافی قیمت جی ڈی پی کا 12.5 فی صد
کام کرنے کی عمر والوں کی آبادی کی اوسط تعلیمی مدت 11.7 سال تک بڑھانا
فی کس اوسط متوقع عمر 80 سال تک کرنا
اناج کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 1.45 کھرب جن تک بڑھانا
توانائی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 5.8 ارب ٹن معیاری کوئلے تک پہنچانا
سوم: 2026 میں معاشی و سماجی ترقی کی مجموعی حکمتِ عملی اور پالیسی رجحان
معاشی شرحِ نمو 4.5 سے 5 فیصد
شہری علاقوں میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں
کنزیومر پرائس میں اضافہ تقریباً 2 فیصد
اناج کی پیداوار تقریباً 1.4 کھرب جن
کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں فی جی ڈی پی یونٹ تقریباً 3.8 فیصد کمی
بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے حساب سے تقریباً 4 فیصد ، جس کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 230 ارب یوان زیادہ ہوگا
عوامی بجٹ کے عمومی اخراجات پہلی بار 30 کھرب یوان تک پہنچیں گے
1.3کھرب یوان کے طویل مدتی خصوصی سرکاری بانڈز کے اجرا کی تجویز
مقامی حکومتوں کے خصوصی بانڈز 4.4 کھرب یوان مقرر
چہارم: 2026 کے چند اہم عملی اقدامات
آمدنی میں اضافہ: شہری و دیہی باشندوں کی آمدنی میں اضافے کے منصوبے پر عملدرآمد، کم آمدنی والے طبقے کی آمدنی بڑھانے، جائیداد کی آمدنی میں اضافہ نیز تنخواہوں اور سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات
کھپت: صارفی اشیا کے تبادلوں کے منصوبے (پرانی چیز کے بدلے نئی چیز) کے لیے 250 ارب یوان کے طویل مدتی خصوصی بانڈز کی معاونت
سرمایہ کاری: مرکزی بجٹ سے 755 ارب یوان کی سرمایہ کاری اور "دو بڑے منصوبوں" کی تعمیر کے لیے 800 ارب یوان کے خصوصی بانڈز
نئی معیاری پیداواری صلاحیت: انٹیگریٹڈ سرکٹس، ایرو سپیس، بائیومیڈیسن، اور نیچی پروازوں پر مشتمل اکانومی جیسی ابھرتی صنعتوں کی تشکیل ، مستقبل کی توانائی، کوانٹم ٹیکنالوجی، ایمباڈیڈ انٹیلی جنس، برین-کمپیوٹر انٹرفیس اور مستقبل کی 6 جی جیسی صنعتوں کا فروغ
"اے آئی +"کے اطلاق کو مزید وسعت دینا
یکساں قومی منڈی: پیداواری صلاحیت کے کنٹرول، معیارات، قیمتوں کے نفاذ اور معیار کی نگرانی جیسے اقدامات کے ذریعے" حد سے زیادہ مقامی مسابقت" کا سختی سے سدباب
کھلا پن: ویلیو ایڈڈ ٹیلی کمیونی کیشن، بائیوٹیکنالوجی اور غیر ملکی ملکیت والے ہسپتالوں میں کھلے پن کے تجرباتی اقدامات میں توسیع
دیہی احیاء: صوبائی سطح پر، زمین کے دوسرے دور کے ٹھیکوں کی مدت ختم ہونے کے بعد مزید 30 سال کی توسیع کے تجربات
چوتھی قومی زرعی مردم شماری کا آغاز
نئے شہروں کی تعمیر و آباد کاری: زرعی آبادی کی شہری شمولیت کو سائنسی اور منظم انداز میں فروغ دینا
مقامی حالات کے مطابق اپنے قریبی علاقے میں مڈل اسکول کے داخلہ امتحان کی شرائط میں نرمی
روزگار: روزگار دوست ترقیاتی ماڈل کی تشکیل
ملازمتوں کے استحکام، توسیع اور معیار میں بہتری کے اقدامات
تعلیم: مفت پری سکول تعلیم کی پالیسی کو بہتر بنانا
پبلک ہائی سکولز میں نشستوں کی تعداد میں اضافہ
صحت: میڈیکل انشورنس کے لیے فی کس حکومتی سبسڈی میں 24 یوان کا اضافہ
سماجی تحفظ: شہری و دیہی بنیادی پنشن کی ماہانہ رقم میں مزید 20 یوان کا اضافہ
نئی شادی اور پہلی اولاد والے خاندانوں کے لیے رہائشی سہولیات کا استحکام
زیادہ بچوں والے خاندانوں کے لیے بہتر رہائش کی ضروریات میں معاونت
سبز ترقی: قومی کم کاربن منتقلی فنڈ کا قیام
ہائیڈروجن توانائی اور سبز ایندھن جیسے نئے ترقیاتی مواقع کا فروغ
ریئل اسٹیٹ:شہروں کے حالات کے مطابق سپلائی کنٹرول، سٹاک میں کمی اور بہتر فراہمی
غیر فروخت شدہ رہائشی مکانات کے مؤثر استعمال کے لیے متنوع طریقوں کی تلاش