مقامی وقت کے مطابق 5 مارچ کو ، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں "توانائی، اہم معدنیات اور سلامتی" کے موضوع پر کھلے اجلاس میں اقوامِ متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو چھونگ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو مستحکم، لچکدار وسائل کی سپلائی چین اور صنعتی چین کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ عالمی اقتصادی ترقی میں مدد مل سکے۔
فو چھونگ نے کہا کہ بعض ممالک کو توانائی اور اہم معدنیات کے معاملات کو غیر ضروری طور پر سلامتی، سیاست اور دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرد جنگ کی ذہنیت ، بلاک محاذ آرائی اور جغرافیائی سیاسی رنگ لیے چھوٹے اور مخصوص گروہ تشکیل دینے سے گریز کرنا چاہیئے۔ عالمی صنعتی اور سپلائی چین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس میں مصنوعی مداخلت، نہ صرف عالمی مارکیٹ میں مزید اضطراب پیدا کرے گی بلکہ بین الاقوامی تعاون کو بھی متاثر کرے گی، اور بالآخر اس کے منفی اثرات خود ایسے اقدامات کرنے والے ممالک پر ہی مرتب ہوں گے۔