• صفحہ اول>>سیاست

    چین میں قومیتی اتحاد اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے مسودہ قانون کا جائزہ

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-06

    6مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین اپنی 56 قومیتوں کے مابین، اعلیٰ معیار کی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے قانونی بنیاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور قومیتی اتحاد و ترقی کو فروغ دینے کے لیےقومی قانون سازوں کے سامنے ایک مسودہ قانون کو پیش کیا گیا ہے۔ مسودہ قانون، چودہویں قومی عوامی کانگریس (NPC) کے چوتھے اجلاس میں تیسری ریڈنگ کے لیے پیش گیا۔

    این پی سی سٹینڈنگ کمیٹی کے نائب چیئرمین لی حونگ جونگ کے مطابق، یہ قانون قومیتی امور کے انتظام و انصرام کو قانون کی حکمرانی کے دائرہ کار میں آگے بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ قانونی دستاویز میں بڑی اقلیتی آبادی والے علاقوں میں اعلیٰ معیار کی ترقی اور تمام قومیتی گروہوں کے مابین مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے ریاستی تعاون کا ذکر ہے مزید یہ کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، صنعتی ترقی، عوامی خدمات، قدرتی وسائل کے تحفظ وغیرہ پر مخصوص دفعات لگائی گئی ہیں۔

    متعدد اقلیتی کمیونٹیز پہاڑی علاقوں، دور دراز مقامات یا چین کے دیگر تاریخی طور پر پسماندہ حصوں میں رہائش پذیر ہیں۔ حکومت کی بھاری سرمایہ کاری، قومی سطح پر غربت کے خاتمے کی مہم اور جدیدیت کی کوششوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان علاقوں نے تیز اقتصادی وسماجی ترقی کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

    مثال کے طور پر 2012 میں چین کے جنوب مغرب میں واقع شی زانگ خود اختیار علاقہ ، کنڈرگارٹن سے لے کر سینئر ہائی تک 15 سال کی پبلک فنڈڈ تعلیم فراہم کرنے میں سرکردہ رہا ۔15 سال کی مفت تعلیم چین کے شمال مغرب میں واقع سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے چار جنوبی پریفیکچرز میں بھی دستیاب ہے۔

    قانون سازوں کو توقع ہے کہ یہ قانون اقلیتی قومیتی علاقوں میں ایک نیا جذبہ جگائے گا ، جو قومیتی اتحاد اور ترقی کے لیے قانونی ضمانتیں فراہم کرے گا۔ چین کے جنوبی علاقے گوانگ شی جوانگ خود اختیار علاقے سے ڈونگ قومیتی گروہ کے این پی سی کے ایک نمائندے چھین جین کا کہناہے کہ یہ قانون اقلیتی قومیتی علاقوں کی ترقی کو ایک قانونی ذمہ داری بنا دے گا اور مستحکم، طویل مدتی ادارہ جاتی حمایت کو یقینی بنائے گا۔

    لی حونگ جونگ بتاتے ہیں کہ وسیع مشاورت کے بعد مفاد عامہ کو فروغ دینے کے اصول کے تحت 2023 میں اس قانون کی تشکیل کا آغاز ہوا ۔ قومیتی گروہوں کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی نشاندہی کرتے ہوئے ، مسودے میں یہ طے کیا گیا ہے کہ پرتشدد دہشت گردی، قومیتی بنیاد پر علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کو جرائم کی صورت میں فوجداری ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    سنکیانگ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر تُرسُن ابی کا کہنا ہے کہ قومیتی یکجہتی، سنکیانگ میں تمام قومیتی گروہوں کی "لائف لائن" ہے۔قومیتی گروہوں کی یکجہتی کا یہ قانونی تحفظ ان گروہوں کو مزید احساس تحفظ کے ساتھ ساتھ ترقی کے حصول پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع دے گا۔

    زبان